
دریں اثنا یہ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں کہ ایران ممکنہ طور سے امریکہ کے نشانے پر ہے اور جغرافیائی سیاسی ہلچل روس سے آگے بھی پھیل سکتی ہے۔ روس کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پرپہلے سے ہی ڈونالڈ ٹرمپ کے تیور سخت نظر آرہے ہیں اور اب تازہ سختی کریملن کی جانب سے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے انکار کے بعد سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔




