
امریکی-اسرائیلی حملے میں تہران کا ایک رہائشی علاقہ متاثر ہوا۔ (تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: ایران پر امریکہ-اسرائیل کا حملوں کا سلسلہ 29ویں دن بھی جاری ہے اور حالات مسلسل کشیدہ ہیں۔ اس دوران سفارتی بیان بازی، فوجی انتباہات اور علاقائی سرگرمیاں اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ یہ تنازعہ فی الحال رکنے والا نہیں ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس جنگ کے حوالے سے نیٹو کے رول پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ایک بزنس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے رویے سے’بہت مایوس‘ ہیں اور اسے ’کاغذی شیر‘قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ہمیشہ نیٹو کی مدد کرتا ہے، لیکن بدلے میں اسے حمایت نہیں ملتی۔
وہیں، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کی جانب سے دو سویلین جوہری ٹھکانوں اور اسٹیل فیکٹریوں پر کیے گئے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کارروائی کی’بھاری قیمت‘ادا کرنی پڑے گی۔ ایرانی فوج نے بھی امریکہ اور اسرائیل کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ توانائی تنصیبات پر حملہ کر کے’آگ سے کھیل‘رہے ہیں۔
ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے مطابق، اردکان میں یلوکیک پروڈکشن پلانٹ اور خنداب ہیوی واٹر سہولت پر حملوں کے باوجود کسی قسم کا تابکار اخراج نہیں ہوا۔
دریں اثنا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ بغیر زمینی فوج بھیجے اپنے جنگی اہداف حاصل کر سکتا ہے اور یہ جنگ’مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں‘ختم ہو سکتی ہے۔
سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں پاکستان میں مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کریں گے، جس میں ایران پر جاری حملوں پر بات چیت ہوگی۔
وہیں، لبنان میں اسرائیلی حملوں کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ وہاں کی وزارت صحت کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک 1,142 افراد ہلاک اور 3,315 زخمی ہو چکے ہیں۔
مجموعی طور پر، 29ویں دن بھی یہ تنازعہ فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جس سے پورے خطے میں عدم استحکام مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






