
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی نظام ایک جھٹکے میں ختم نہیں ہوتا۔ یہ تب ختم ہوتا ہے جب خلاف ورزیوں کے جواب بہانوں سے دیے جائیں، جب اصولوں کو انتخابی انداز میں نافذ کیا جائے اور جب خاموشی پالیسی بن جائے۔ وینزویلا کے ساتھ جو ہوا ہے، وہ ایک انتباہ ہے۔ اس پر سب سے خطرناک رد عمل یہ دکھانا ہوگا کہ یہ کسی اور کا مسئلہ ہے۔
(مضمون نگار سویڈن کی ’اُپسالا یونیورسٹی‘ میں ’پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ‘ کے پروفیسر ہیں)





