
برطانوی حکومت نے الہلال کے انقلابی مضامین سے خوف زدہ ہو کر اسے بند کر دیا اور مولانا آزاد کو بنگال سے نکال کر رانچی میں نظر بند کر دیا لیکن قید و بند نے ان کے عزم کو کمزور نہیں کیا۔ بلکہ وہ اور زیادہ پختگی کے ساتھ قومی اتحاد کے نظریے کے ترجمان بن گئے۔
مولانا آزاد نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ آزادی کا حقیقی مفہوم قومی اتحاد کے بغیر ممکن نہیں۔ 1921 میں آگرہ میں دیے گئے اپنے خطاب میں انھوں نے واضح طور پر کہا، ’’میرا پہلا مقصد ہندو مسلم اتحاد ہے۔ میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ ان کا فرض ہے کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ محبت اور بھائی چارے کا رشتہ قائم کریں تاکہ ہم ایک کامیاب قوم کی تعمیر کر سکیں۔‘‘
ان کے نزدیک قوم کی طاقت مذہب سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، رواداری اور مشترکہ شناخت سے بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد میں مذہبی امتیاز کے ہر تصور کو رد کیا۔






