
دوسری طرف، پاکستان نے اپنی اقتصادی مشکلات کے باوجود چین، روس اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات استوار کیے اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے پرانے اعتماد پر مبنی تعلقات میں نئی جان ڈال دی۔ اب ریاض صرف ایک اقتصادی دوست نہیں، بلکہ دفاعی شراکت دار بھی بن چکا ہے۔
ہندوستانی وزرائے اعظم عام طور پر سعودی عرب کے معاملے میں محتاط رہے مگر مودی نے وہاں دوستی کی جو پالیسی اپنائی، وہ الٹی پڑ گئی۔ سادہ بات یہ ہے کہ آپ ملک کے اندر مسلمانوں سے نفرت کریں اور بیرونِ ملک مسلم حکمرانوں سے قربت جتائیں—یہ دوہرا رویہ زیادہ دن نہیں چل سکتا۔
پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ناقص شواہد کے باوجود شروع کیا گیا ’آپریشن سندور‘ ہندوستان کو بھاری پڑا۔ مئی میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ جنگ دراصل بہار اور بنگال کے انتخابات سے قبل سیاسی فائدے کے لیے تھی۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس سبھی نے پاکستان کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی مخالفت کی، جبکہ چین نے تو کھلے عام اسلام آباد کی حمایت کی۔





