’ووٹ چوری‘ کے خلاف عوامی بیداری اور زمینی پیش قدمی

AhmadJunaidJ&K News urduAugust 24, 2025387 Views


یاترا کا وقت اور راستہ سوچ سمجھ کر طے کیا گیا۔ یہ زیادہ تر دیہی علاقوں اور بستیوں سے گزر رہی ہے۔ سہسرام کو نقطہ آغاز کے طور پر چننا علامتی بھی تھا اور عملی بھی۔ سہسرام سابق مرکزی وزیر، سابق نائب وزیراعظم اور دلت رہنما جگجیون رام کا علاقہ رہا ہے۔ یہاں شیرشاہ سوری کا مقبرہ بھی ہے جو ان کی تعمیر کردہ عظیم شاہراہ (گرینڈ ٹرنک روڈ) سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

یوٹیوبر بھارت سورج اس یاترا میں امنڈتی بھیڑ کو بڑا اشارہ مانتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ یاترا انتخابات میں بڑا فرق ڈالے گی یا نہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ اس نے ’ووٹ چوری‘ کو ایک مؤثر اور عوامی نعرہ بنا دیا ہے۔

بی جے پی قائدین اور مرکزی میڈیا نے اس یاترا کو مذاق اور سرکس قرار دیا۔ باضابطہ طور پر تو وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی بندر بھی گاؤں سے گزرتا ہے تو بھیڑ جمع ہو جاتی ہے لیکن پس پردہ وہ مانتے ہیں کہ سیاسی وجوہات سے اس کے اثر کو کم کر کے دکھایا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک بی جے پی رہنما نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر اعتراف کیا کہ ’’راہل اور تیجسوی پر ہم نے جو ’بوڑم‘ اور ’شاہی پپو‘ جیسے لیبل چسپاں کیے، اس کے برخلاف عوام انہیں صاف گو اور جدوجہد کرنے والے لیڈروں کے طور پر دیکھتی ہے جو روزگار اور زندگی جیسے بنیادی مسائل پر بات کرتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق مقبولیت کے اشاریے پر وہ نریندر مودی کو سخت ٹکر دے رہے ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...