مہاگٹھ بندھن میں شامل دیگر جماعتوں نے بھی تیجسوی کی تشویش کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کئی اضلاع میں انتخابی فہرستوں میں دانستہ چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کچھ علاقوں میں حکومت کے دباؤ میں مخصوص ووٹرز کے ناموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
اپوزیشن کی ان شکایات نے ریاست میں سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر متعدد بار سوالات اٹھے ہیں، جس نے تمام فریقوں کو محتاط کر دیا ہے۔ تیجسوی نے آخر میں زور دے کر کہا کہ ان کا مقصد جمہوریت کو بچانا ہے اور وہ اس کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کریں گے، چاہے وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی کیوں نہ ہو۔






