
تیجسوی یادو کے مطابق، کھگڑیا میں ان کے ایک ایم ایل اے کے ڈرائیور کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا، جب کہ اس سے پہلے پٹنہ میں آر جے ڈی لیڈر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ نظم و نسق کے ساتھ ساتھ تیجسوی نے بدعنوانی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’انجینئروں کے گھروں سے کروڑوں کی رقم برآمد ہو رہی ہے اور پولیس تھانوں سے لے کر اعلیٰ سطح کی بیوروکریسی تک بدعنوانی عام ہو چکی ہے۔’’
راگھوپور میں ہوئی ایک ہلاکت کو سیاسی فائدے سے جوڑنے والے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تیجسوی نے کہا کہ ’’یہ سوچ شرمناک ہے کہ انصاف کے بجائے سیاسی نفع نقصان پر بحث کی جا رہی ہے۔ ایسے افراد نائب وزیر اعلیٰ بننے کے لائق نہیں۔‘‘






