’وندے ماترم‘ سے متعلق حکومت کا سرکلر دستور کی دفعہ 25 کے منافی، یہ مذہبی آزادی سلب کرنے کی کوشش: جمعیۃ علماء ہند

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 12, 2026358 Views


مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ ہم وطن سے ہمیشہ محبت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، لیکن کوئی ایسا لفظ قابل قبول نہیں جو عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وندے ماترم، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>وندے ماترم، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کے سلسلے میں جاری کردہ سرکلر کو نہایت تشویشناک قرار دیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ یہ قدم دستور ہند کی دفعہ 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کو سلب کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہند میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا ناقابل تنسیخ حق فراہم کیا گیا ہے۔ اس لیے کسی کے مذہبی عقیدہ کے خلاف اسے مخصوص نظم یا کلام کو پڑھنے پر مجبور کرنا آئین کے منافی ہے۔

مولانا محمد حکیم الدین قسمی نے بتایا کہ ’وندے ماترم‘ کے مکمل متن، خصوصاً چوتھے اور پانچویں بند میں مورتی وندنا اور بعض ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر موجود ہے۔ اسلامی عقیدۂ توحید کے پیش نظر مسلمان غیر اللہ کی تعظیم یا پرستش نہیں کر سکتا اور نہ اس کی عبادت کا اظہار کر سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے اس کا ایمان سلب ہو جائے گا۔

مولانا حکیم الدین قاسمی کا کہنا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند فی نفسہ اس نظم کی مخالف نہیں ہے۔ اگر اکثریتی مذہب کے لوگ اسے پڑھنا چاہیں، تو ان کو اختیار ہے، ہم ان کی راہ میں نہیں آتے۔ لیکن اسے تمام شہریوں کے لیے لازم قرار دینا یا اسکولوں میں کمسن بچوں کو اس کے پڑھنے پر آمادہ یا مجبور کرنا مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہوگا۔ ہندوستان ایک تکثیری اور کثیر المذاہب ملک ہے جہاں آئین کی بالادستی اور ’کثرت میں وحدت‘ کا اصول ہی قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔ اس بنیاد کو کمزور کرنے والا کوئی بھی قدم ملک کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔

مسلمانانِ ہند کا یہ متفقہ اور دو ٹوک موقف ہے کہ مذہبی آزادی کے منافی کسی بھی فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہم حکومت ہند سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئینی تقاضوں، عدالتی نظائر اور ملک کے ہمہ رنگ سماجی ڈھانچے کو پیش نظر رکھتے ہوئے مذکورہ سرکلر پر فوری نظر ثانی کرے تاکہ ملک میں مذہبی آزادی، آئینی وقار اور سماجی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔ جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے، تو یہ ہمارا دینی تقاضا ہے۔ ہم وطن سے ہمیشہ محبت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، لیکن کوئی ایسا لفظ قابل قبول نہیں جو عبادت کے زمرے میں آتا ہے، جس کا حق ہمیں ہمارے ملک کے آئین نے دیا ہے اور جس کی بنیاد پر یہ ملک شیشہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...