وزیر داخلہ کی ہدایت، ہندوستان-بنگلہ دیش بارڈر سکیورٹی کے لیے سانپ اور مگرمچھ کے استعمال پر غور کرے بی ایس ایف

AhmadJunaidJ&K News urduApril 6, 2026358 Views


ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد پر دراندازی  کوروکنے کے لیے بی ایس ایف کو ندی والے علاقوں میں سانپ اور مگرمچھ جیسے رینگنے والے جانوروں کی تعیناتی کے امکان پر غور کرنے کو کہا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی ہدایات کے بعد یہ تجویز سامنے آئی ہے، تاہم، اس کے عملی اور انسانی اثرات کے حوالے سے سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔

علامتی تصویر: بہ شکریہ ٹوئٹر/بی ایس ایف

نئی دہلی: ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد پر دراندازی اور مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو ایک غیر معمولی تجویز پر غور کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایک اندرونی مواصلات کے مطابق، ندی والےسرحدی علاقوں میں سانپ اور مگرمچھ جیسے رینگنے والے جانوروں کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، 26 مارچ کو بی ایس ایف ہیڈکوارٹر سے بنگلہ دیش سرحد سے منسلک تمام فیلڈ یونٹس کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر داخلہ امت شاہ کی ہدایات کے مطابق‘اس تجویز پر غور کیا جائے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حساس دریائی علاقوں میں رینگنے والے جانوروں کی تعیناتی کے قابل عمل ہونے کو آپریشنل نقطہ نظر سے پرکھا جائے۔

تاہم، بی ایس ایف کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ابھی تک اس خیال کو نافذ نہیں کیا گیا ہے اور فی الحال صرف اس کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے سامنے کئی عملی مشکلات ہیں، جیسے ان جانوروں کی فراہمی کیسے ہوگی اور اس کا اثر سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں پر کیا پڑے گا۔

یہ تجویز 9 فروری کو دہلی میں واقع بی ایس ایف ہیڈکوارٹر میں ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد سامنے آئی ہے۔ بی ایس ایف ہندوستان-بنگلہ دیش اور ہندوستان-پاکستان سرحدوں کی نگرانی کرنے والی اہم فورس ہے۔ خاص طور پر مشرقی سرحد کے کئی حصے سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں، جہاں جغرافیائی حالات کی وجہ سے باڑ لگانا مشکل ہے۔

سرحدی علاقوں میں گنجان آبادی ہونے کے باعث اس طرح کے اقدامات سے مقامی لوگوں، خاص طور پر سیلاب کے دوران، سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

امور داخلہ سے متعلق پارلیامانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی 17 مارچ کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد کی کل لمبائی 4,096.7 کلومیٹر ہے، جس میں سے 3,326.14 کلومیٹر حصے میں باڑ لگانے کی منظوری دی گئی تھی۔ اب تک 2,954.56 کلومیٹر علاقے میں باڑ لگائی جا چکی ہے، جبکہ تقریباً 371 کلومیٹر حصہ اب بھی بغیر باڑ کے ہے۔

وزارت داخلہ کی 2024-25 کی سالانہ رپورٹ میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ سرحد پہاڑوں، ندیوں اور وادیوں جیسے مشکل جغرافیائی علاقوں سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے نگرانی اور باڑ کی تعمیر میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ حساس علاقوں میں روایتی باڑ کی جگہ تکنیکی حل تیار کیے جا رہے ہیں، لیکن زمین کے حصول، مقامی مخالفت اور جغرافیائی مسائل کی وجہ سے کام سست روی کا شکار ہے۔

گزشتہ 26مارچ کے پیغام میں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ مشرقی کمان ان سرحدی چوکیوں کی نشاندہی کرے، جہاں موبائل نیٹ ورک موجود نہیں ہے یا سگنل بہت کمزور ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرحدی گاؤں کے رہائشیوں کے خلاف درج معاملوں کی مفصل معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔

مجموعی طور پر، بارڈر سکیورٹی کے لیے نئے متبادل تلاش کرنے کے عمل میں یہ تجویز سامنے آئی ہے، لیکن اس کے عملی اور انسانی اثرات کے حوالے سے کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...