مرکزی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے یونین بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاع، ٹیکس نظام، ریل، صحت، تعلیم اور خواتین کی فلاح سے متعلق کئی اہم اعلانات کیے ہیں۔ بجٹ کی نمایاں جھلکیاں کچھ اس طرح ہیں:
– وزارت دفاع کے لیے 7.8 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق اس میں فوج کی جدید کاری پر خاص توجہ دی گئی ہے، جبکہ 2.19 لاکھ کروڑ روپے صرف سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔
– ٹیکس سلیب جوں کے توں رکھے گئے ہیں، تاہم نظرثانی شدہ ریٹرن داخل کرنے کی آخری تاریخ 31 دسمبر سے بڑھا کر 31 مارچ کر دی گئی ہے۔
– ملک میں سات نئے تیز رفتار ریل راستوں کی تجویز دی گئی ہے، جن میں ممبئی–پونے، دہلی–وارانسی اور چینئی–بنگلورو جیسے روٹس شامل ہیں۔
– تقریباً 800 اضلاع میں لڑکیوں کے لیے ہاسٹل بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے، ہر ضلع میں کم از کم ایک ہاسٹل تجویز کیا گیا ہے۔
– کینسر کی 17 اور نایاب بیماریوں کی 7 دواؤں کو درآمدی ڈیوٹی سے مکمل چھوٹ دی گئی ہے۔
– پانچ لاکھ سے زائد آبادی والے چھوٹے شہروں کی ترقی کے لیے 12.2 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
– 5 ہزار اسکولوں اور 500 کالجوں میں ڈیجیٹل مہارت بڑھانے کے لیے خصوصی لیب قائم کرنے کی تجویز ہے۔
– حکومت نے تین آیورویدک ایمس اور پانچ علاقائی میڈیکل ٹورزم ہب قائم کرنے کی بات کہی ہے۔
– یہی خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباروں کے لیے خصوصی مارکیٹس شروع کی جائیں گی۔
– کھیلو انڈیا کو اگلے دس برسوں کے لیے وسعت دینے، تربیتی مراکز اور مقابلوں کے انعقاد کی تجویز ہے۔
– پانچ میڈیکل ہب میں آیوش مراکز، تشخیصی سہولتیں اور بحالی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔
– موٹر حادثات کے معاوضے کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے، نیا انکم ٹیکس قانون 2026 سے نافذ کرنے اور بیرونِ ملک دوروں، تعلیم و علاج پر ٹیکس کم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
– اروناچل پردیش، آسام، سکّم، میزورم اور تریپورہ میں بدھ سرکٹ اور ٹراما کیئر مراکز بنانے کی تجویز ہے۔
– آیورویدک مصنوعات کی برآمدات بڑھانے، صحت کے ماہرین اور کیئرگیورز تیار کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔
– حکومت کے مطابق بجٹ میں سی این جی اور بایو گیس کی قیمتیں کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے صارفین کو راحت ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔






