
خاموش مگر ہر جگہ موجود رہنے والے جوشی کو وزیر اعظم کی ’آنکھیں اور کان‘ کہا جاتا ہے۔ دعویٰ ہے کہ خطے کے کئی ممالک جیسے پاکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال، ترکی اور یہاں تک کہ چین کے خلاف ڈیجیٹل مہمات کے پیچھے انہی کی حکمت عملی تھی۔ ’وشوگرو‘ جیسا نعرہ بھی انہی کی دین بتایا جاتا ہے۔
جوشی کی ممکنہ برطرفی کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب پرسار بھارتی کے طاقتور افسر نوینت سہگل نے استعفیٰ دیا۔ اسی دوران لا کمیشن کے افسر ہیتیش جین کا نام بھی سامنے آیا، جنہیں جوشی کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ الزام یہ ہے کہ جین نے بیٹنگ قوانین میں خامیاں پیدا کرنے میں کردار ادا کیا مگر اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
قیاس لگایا جا رہا ہے کہ سہگل پی ایم او میں جوشی کی جگہ لے سکتے ہیں۔ حقیقت آنے والے دنوں میں واضح ہوگی لیکن اتنا ضرور ہے کہ پہلی بار پی ایم او کے اندرونی معاملات براہِ راست سوالات کے گھیرے میں آ گئے ہیں اور یہ سوالات اب نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔






