
اخبار کی مشکلات مبینہ طور پر اس وقت مزید بڑھ گئیں جب جیف بیزوس نے صدارتی انتخابات کے دوران کملا ہیرس کی حمایت کرنے والے ایک اداریے کو روک دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد واشنگٹن پوسٹ کے ہزاروں صارفین نے اپنی سبسکرپشن منسوخ کر دیں۔ اخبار کے ادارتی صفحات کو زیادہ قدامت پسند سمت میں منتقل کرنے کی کوششوں نے بھی عملے اور قارئین میں ناراضگی کو ہوا دی۔ بھاری مالی نقصانات اور ڈیجیٹل ٹریفک میں کمی نے اخبار کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔






