نیپال میں ہولناک سڑک حادثہ، ندی میں بس گرنے سے 18 افراد ہلاک، 27 زخمی

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 23, 2026358 Views


نیپال کے ضلع دھادنگ میں پوکھرا سے کٹھمنڈو جانے والی بس تریشولی ندی میں گرنے سے 18 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے۔ غیر ملکی شہری بھی متاثرین میں شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

i

user

نیپال کے ضلع دھادنگ میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک ہولناک سڑک حادثہ پیش آیا جس میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 27 زخمی ہو گئے۔ پوکھرا سے راجدھانی کھٹمنڈو آنے والی ایک مسافر بس پرتھوی راج مارگ پر گجوری کے قریب تریشولی ندی میں جا گری۔ حادثہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے اس وقت پیش آیا جب بس کھٹمنڈو سے قریب 90 کلو میٹر مغرب کی سمت سفر کر رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق بس اچانک بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے جا گری اور سیدھی ندی میں جا سمائی۔

ایس ایس بی (سشستر پولیس بل) کے ترجمان بشنو پرساد بھٹ نے بتایا کہ جائے حادثہ سے اب تک 18 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ مرنے والوں میں ایک مرد مسافر نیوزی لینڈ کا شہری بھی شامل ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز اور کٹھمنڈو کے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمیوں میں جاپان اور نیدرلینڈ کی ایک ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بس میں 40 سے زائد مسافر سوار تھے۔ حادثے کی خبر ملتے ہی نیپال فوج، سشستر پولیس بل اور نیپال پولیس کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ اندھیری رات، پہاڑی علاقہ اور ندی کا تیز بہاؤ ریسکیو کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے مقامی لوگوں کے تعاون سے رات بھر امدادی مہم جاری رکھی۔ کرین اور دیگر مشینری کی مدد سے بس تک رسائی حاصل کرنے اور پھنسے ہوئے مسافروں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔

ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بس تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہوئی اور ڈرائیور گاڑی پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین تفصیلی تکنیکی جانچ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ بس کے بریک سسٹم، سڑک کی حالت اور ڈرائیور کی جسمانی کیفیت سمیت تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...