
واضح رہے کہ مظاہرین کا غصہ صرف سوشل میڈیا پر عائد پابندی کو لے کر ہی نہیں ہے، بلکہ وہ بے روزگاری، بدعنوانی اور معاشی بحران کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ وراٹ نگر، بھرت پور اور پوکھرا میں مظاہرہ کر رہے نوجوان اس بارے میں کھل کر باتیں کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ جو لوگ فیس بک یا انسٹاگرام کے ذریعہ سامان فروخت کرتے تھے، ان کا بزنس پوری طرح سے ٹھپ پڑ گیا ہے۔ یوٹیوب اور گٹ ہب جیسے پلیٹ فارم نہیں چلنے سے بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ بیرون ممالک میں رہنے والے لوگوں سے بات کرنا بھی مہنگا اور مشکل ہو گیا ہے۔ لوگوں میں ناراضگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کئی لوگوں نے وی پی این سے پابندی توڑنے کی بھی کوشش کی۔





