
یہ نہرو ہی کا ظرف تھا کہ ایک کارٹونسٹ کے کارٹونوں کے مجموعے کی رونمائی کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان پر تنقید کرنے میں کسی رعایت سے کام نہ لے — ’ڈونٹ اسپیئر می، مسٹر کارٹونسٹ۔‘
دوسری وجہ ان کے دو ٹوک نظریات ہیں، جن میں اتنا بھی ابہام نہیں ملتا کہ ان کے ناقدین اس میں پناہ لینے کی کوئی جگہ ڈھونڈ سکیں۔ دراصل، وہ اپنی کتابوں، تقاریر اور خطابات وغیرہ میں کہیں بھی ایسی گنجائش نہیں چھوڑتے کہ کوئی فریب یا دکھاوا اختیار کر کے انہیں کمزور ثابت کر سکے۔ انہوں نے یہ گنجائش اس وقت بھی نہیں چھوڑی، جب ناقدین کی نظر میں وہ ’اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کی مجبوری‘ سے گزر رہے تھے۔
اسی لیے 14 اگست 1947 کی نصف شب، آزادی سے قبل، اس وقت کے وائسرائے لاج (موجودہ راشٹرپتی بھون) میں ان کی تاریخی تقریر ’ٹرسٹ ود ڈیسٹنی‘ کو بیسویں صدی کی بہترین تقاریر میں شمار کیا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ان کے وہ خطابات بھی کم اہم نہیں مانے جاتے، جو انہوں نے اس وقت کیے جب آزادی کے بعد کی کچھ تلخ حقیقتوں سے روبرو ہو کر ملک کی خوشی اور جوش میں کچھ کمی آنے لگی تھی۔





