نومبر 2026 میں راجیہ سبھا سے بی ایس پی کی نمائندگی ختم، 36 سال بعد پارلیمنٹ میں مایاوتی کی آواز ہوگی خاموش

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 23, 2025363 Views


اتر پردیش، جو کبھی بی ایس پی کا سب سے مضبوط سیاسی مرکز تھا، وہاں پارٹی کی حالت نہایت کمزور ہو چکی ہے۔ موجودہ اسمبلی میں بی ایس پی کا صرف ایک ہی رکن ہے جبکہ قانون ساز کونسل میں پارٹی کی کوئی نمائندگی نہیں۔ ایسے میں راجیہ سبھا کے لیے مطلوبہ عددی حمایت کا حصول بی ایس پی کے لیے ناممکن نظر آتا ہے۔

2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی ایس پی ایک بھی نشست جیتنے میں ناکام رہی۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کا ووٹ شیئر بھی نمایاں طور پر کم ہو کر محض دو فیصد سے کچھ اوپر رہ گیا۔ اس انتخابی ناکامی نے نہ صرف پارٹی کے سیاسی مستقبل پر سوال کھڑے کیے بلکہ اس کے قومی پارٹی کے درجے پر بھی خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...