نوروز کے دوران امریکی حملے میں 8 افراد ہلاک

AhmadJunaidJ&K News urduApril 3, 2026358 Views


امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 35 ویں دن بھی ایران میں کشیدگی برقرار ہے۔ نوروز کے اختتامی جشن کے دوران ایک امریکی حملے میں 8 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔

اسرائیل کے شہر پیتا تکوا میں ایرانی میزائل حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں موقع کا جائزہ لیتے ہوئے، 2 اپریل 2026۔ (تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 35ویں دن بھی مغربی ایشیا میں حالات معمول پر آتے نظر نہیں آ رہے۔ جمعہ تک یہ تنازعہ مسلسل پھیلتا نظر آیا۔ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

امریکی حملے میں ایک اہم پل کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر کم از کم 8 افراد ہلاک جبکہ 95 سے زائد زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب لوگ ایرانی کلینڈر کے مطابق نئے سال یعنی’نوروز‘کے اختتام پر ’نیچر ڈے‘منا رہے تھے۔ ایران نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے خطرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور امریکہ اپنے اسٹریٹجک اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے۔ تاہم، زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اب بھی ہتھیاروں اور میزائلوں کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے اور جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ’غیر اہم‘تھے۔

یہ تنازعہ مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔ کویت اور بحرین نے بھی اپنے اوپر حملوں کی اطلاع دی ہے۔ لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائیاں جاری ہیں،جہاں ایک ہی دن میں 27 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہاں اسرائیل، ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔

اب تک اس جنگ میں ایران میں 1,900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل میں 19 افراد جان کی جان گئی ہے۔ خلیجی ممالک اور ویسٹ بینک میں بھی دو درجن سے زائد ہلاکتوں کی خبر ہے۔ لبنان میں 1,300 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں اور 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس تنازعہ میں 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

دریں اثنا، امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جنگ کے بیچ امریکی فوج کے اعلیٰ افسر جنرل رینڈی جارج سے عہدہ چھوڑنے کو کہا ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں، تاہم اسے فوجی قیادت میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بھی نمایاں ہیں۔ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو فروری کے آخر کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ عام اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

اس دوران آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے۔ برطانیہ کی پہل پر ہونے والے ایک بین الاقوامی اجلاس میں ہندوستان سمیت 40 سے زائد ممالک نے شرکت کی، جہاں اس راستے کو دوبارہ کھولنے اور محفوظ آمد و رفت بحال کرنے پر غور کیا گیا۔

ہندوستان کی جانب سے خارجہ سکریٹری نے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں بلا رکاوٹ آمد و رفت کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کا براہ راست اثر ہندوستان کی توانائی سلامتی پر پڑ رہا ہے اور خلیجی خطے میں حالیہ حملوں میں ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکتیں بھی باعث تشویش ہیں۔

اجلاس میں کئی ممالک نے ایران پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ بڑھانے حتیٰ کہ پابندیاں عائد کرنے جیسے متبادل پر بھی غور کیا۔ تاہم،ہندوستان نے واضح کیا کہ اس بحران کا حل صرف کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

برطانیہ کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جہاں عام طور پر روزانہ تقریباً 150 جہاز گزرتے تھے، وہیں حالیہ دنوں میں یہ تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ اس سے عالمی توانائی کی فراہمی اور تجارت پر شدید اثر پڑ رہا ہے۔

کچھ خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک طرح کا ’ٹول سسٹم‘نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت جہازوں کو اجازت لے کر اور فیس ادا کر کے ہی گزرنا پڑتا ہے۔ تاہم، ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے ایران کے ساتھ اس کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

ہندوستانی حکومت اب تک اس پورے تنازعہ میں متوازن موقف اپناتے ہوئے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے اپنے توانائی مفادات اور سمندری سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیتی رہی ہے۔

مجموعی طور پر 35 دن گزرنے کے باوجود یہ تنازعہ ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق برقرار ہے، جبکہ عام شہریوں پر اس کے اثرات مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...