
اہل خانہ نے اسپتال سے لے کر عدالت تک ہریش کے لیے لڑائی لڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ والدین نے کبھی ہمت نہیں ہاری، لیکن بیٹے کی اذیت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ سے اپنے بیٹے کو ’پیسیو اتھنیسیا‘ (مرضی کی موت) دینے کی اپیل کی، جسے سپریم کورٹ نے قبول کر لیا۔ ہریش کو 14 مارچ کو ایمس میں داخل کرایا گیا تھا اور تب سے ہی ڈاکٹر ان کے ’لائف سپورٹ سسٹم‘ کو آہستہ آہستہ ہٹا رہے تھے۔ گزشتہ تقریباً ایک ہفتے سے تو انہیں کھانا پینا بھی نہیں دیا جا رہا تھا۔ اس دوران ہریش کو صرف درد اور ذہنی تکلیف سے راحت دینے کے لیے دوائیں دی جا رہی تھیں۔




