
پچاس سالہ تسیم احمد گزشتہ 45 برس سے چمولی ضلع کے گوچر قصبے میں رہ رہے تھے۔ 15 اکتوبر 2024 کو ان کے بھائی کا اسکوٹی پارک کرنے کے معاملے پر ایک ہندو شخص سے جھگڑا ہو گیا۔ اس کے بعد ہندوتوا بریگیڈ نے دس مسلم دکانداروں کو قصبہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ احمد نے کہا، ’’پارکنگ کے ایک معمولی جھگڑے نے ہماری پوری زندگی برباد کر دی۔ ہم 45 سال سے یہاں رہ رہے تھے۔ کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ ہمیں آدھی رات کو گوچر چھوڑنا پڑا۔‘‘
چمولی کے ننداپریاگ میں ایک مسلم نائی پر چھیڑ چھاڑ کے الزامات کے بعد اگست–ستمبر 2024 میں مسلم مخالف مہم نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ 22 اگست کو نائی کو اپنی دکان خالی کرنے کا حکم دیا گیا، جس کے بعد وہ نجیب آباد واپس چلا گیا۔ گزشتہ 20 برس سے ڈرائی کلیننگ کی دکان چلانے والے اور 1975 سے نندا گھاٹ میں مقیم عثمان حسن نے بتایا کہ 3 ستمبر کی رات 15 خاندانوں کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔
انہوں نے کہا، ’’31 اگست کو مقامی لوگوں نے نائی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ یکم ستمبر کو تاجر تنظیم نے نندا گھاٹ پولیس اسٹیشن کے سامنے مظاہرے کی کال دی۔ ہم مسلمان بھی اس میں شامل ہوئے۔ ہمیں لگا کہ تاجر برادری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، مگر اجلاس میں ’ملوں کے دلالوں کو جوتے مارو‘ جیسے مسلم مخالف نعرے لگائے گئے۔‘‘




