نظام کی بنیاد اور گاندھی جی کا جنتر

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 7, 2025413 Views


وہاں خیمہ لگا کر پوری انتظامیہ موجود رہی۔ نوجوان رضاکار لوگوں کو متعلقہ محکمے کے افسر کے پاس لے گئے۔ کچھ مسائل وہیں حل ہوئے، کچھ رہ گئے، مگر سب نے یہ احساس پایا کہ وہ بھیک مانگنے نہیں آئے بلکہ اپنے حق کے مطالبے کے لیے آئے ہیں۔

یہی اس عمل کی اصل خوبی تھی کہ یہاں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہر مسئلہ کمپیوٹر ریکارڈ پر درج کیا گیا۔ افسر کو صاف جواب دینا پڑتا، لمبے وعدوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ یہی عمل نئے خودمختار کارکن پیدا کرتا ہے۔

سرمایہ کے سہارے چلنے والی سیاسی جماعتوں کے کارکن عام گاؤں میں رہنے، روٹی مانگنے یا عوام کے ساتھ سادگی میں رہنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک انہیں چمک دمک کے ساتھ پیش آنا چاہیے، گویا اپنی عظمت دکھانی لازمی ہے۔

مگر اس عوامی عمل میں کارکن اپنی بھوک اور فطری ضرورت کے ساتھ گاؤں کے سامنے آتا ہے۔ کوئی دکھاوا نہیں، کوئی فاصلہ نہیں۔ وہ گاڑیوں میں بھر کر لوگوں کو لانے کے بجائے، انہیں اپنے خرچ پر آنے دیتے ہیں۔ یہاں ’ہم اور وہ‘ کی دیوار قائم ہی نہیں ہو سکتی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...