
خبر رساں ایجنسی سے بات چیت کے دوران پروفیسر ٹیرل نے یہ بھی کہا کہ ’’امریکہ یوکرینی صدر زیلینسکی سے بات کر سکتا ہے، امریکہ روس سے بھی بات کر سکتا ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ روسی صدر پوتن اس پر توجہ نہ دیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان ایسا ملک ہے جو دونوں ممالک سے بات کر سکتا ہے اور دونوں ممالک کے لیڈران ہندوستان کی بات کو توجہ سے سنیں گے۔ ایسے میں اگر کوئی بڑا ملک ہے، تو وہ ہندوستان ہے، جو روس-یوکرین جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار نبھا سکتا ہے۔





