
لیکن اصل سوال الیکشن کمیشن کے کردار پر ہے۔ کیا کمیشن اپنی مشکوک ایس آئی آر مہم کے ذریعے کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے؟ مسودہ ووٹر لسٹ سے بے بنیاد شک کی بنیاد پر لاکھوں نام حذف کیے گئے، پھر حتمی فہرست میں مشکوک اندراجات جوڑ دیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 76 لاکھ بالغ شہریوں کے نام فہرست سے غائب ہیں۔
حیرت انگیز طور پر نئی ووٹر لسٹ میں تمل، تلگو اور کنڑ زبانوں میں انٹریز، ہیش ٹیگ اور غیر واضح پتوں کا وجود پایا گیا۔ کئی مقامات پر ایک ہی پتے پر سیکڑوں ووٹر درج ہیں، حالانکہ کمیشن کے اپنے ضوابط کے مطابق ایسے معاملات میں فزیکل ویریفکیشن ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ الیکشن کمیشن نے یہ وضاحت نہیں کی کہ 2018 سے موجود ’ڈی ڈیپلی کیشن سافٹ ویئر‘ کو بہار کی ووٹر لسٹ کی جانچ کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔
یہ سب سوال اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بہار کا یہ انتخاب صرف سیاست نہیں بلکہ جمہوریت کے نظام پر عوامی اعتماد کا بھی امتحان ہے۔ کیا بہار سچ میں تبدیلی کے موڈ میں ہے، یا سب کچھ پرانے فارمولے کے تحت ہی چلے گا، یہی فیصلہ نومبر کے ووٹ کریں گے۔





