
انتخابی عمل کے دوران ہی اپوزیشن جماعتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے ووٹوں میں ہیرا پھیری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ بی ایم سی انتخابات میں پہلی بار پی اے ڈی یو آلے کو متعارف کرایا گیا ہے، جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلاف سامنے آیا ہے۔
مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے سمیت کئی اپوزیشن رہنما پولنگ کے دوران ہی اس آلے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو نہ تو اس نئے نظام کے بارے میں پیشگی آگاہ کیا گیا اور نہ ہی اس کی عملی وضاحت فراہم کی گئی۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد ووٹوں میں گڑبڑی کے الزامات سامنے آ چکے ہیں، ایسے میں کسی نئے الیکٹرانک آلے کا استعمال شکوک کو مزید بڑھاتا ہے۔






