’نئے ایرانی صدر نے جنگ بندی کی درخواست کی‘، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ

AhmadJunaidJ&K News urduApril 1, 2026358 Views


ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’ایران کی نئی حکومت کے صدر جو اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں بہت کم سخت اور زیادہ عقلمند ہیں، نے ابھی ابھی امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے!‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے صدر نے ان سے رابطہ کر جنگ بندی کا اعلان کرنے کے لیے لیے کہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’ایران کی نئی حکومت کے صدر جو اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں بہت کم سخت اور زیادہ عقلمند ہیں، نے ابھی ابھی امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے!‘‘ ٹرمپ نے اپنی جنگ بندی کی شرائط بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس پر تبھی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز مکمل طور کھلا، آزاد اور محفوظ ہو جائے گا، تب تک ہم ایران کو تباہ کرتے رہیں گے یا جیسا کہ کہا جاتا ہے اسے واپس ’اسٹون ایج‘ (پتھر کے دور) میں بھیج دیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ ٹرمپ نے آج صبح کہا تھا کہ وہ 3-2 ہفتوں میں ایران جنگ کو ختم کر دیں گے۔ اس کے بعد جنگ بندی سے متعلق ان کا یہ تازہ بیان آیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ایران کی نئی حکومت کے صدر کسے کہہ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے دعویٰ پر ایران کا بھی بیان سامنے آ گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی افسران نے کہا کہ ٹرمپ کے دعوے کے برعکس ہم نے کسی قسم کی جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا۔ ایران نے ٹرمپ کے دعوے کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ’رائٹرس‘ سے گفتگو میں کہا کہ ہم جلد ہی ایران سے باہر ہونے والے ہیں۔ ایران کے افزودہ یورینیم پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کے بارے میں زیادہ فکر نہیں ہے کیونکہ ہم سیٹلائٹ سے بھی اس پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران میں کچھ اہداف باقی رہ گئے ہیں، تو ان کی فوج اس جگہ پر حملہ کرنے کے لیے دوبارہ آ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہم ایران میں نظام کی تبدیلی کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے نئی قیادت کا نام نہیں بتایا۔

اس درمیان خبریں آ رہی ہیں ایران کے اندر اقتدار کے لیے کشمکش جاری ہے۔ اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اقتدار کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان کا کردار محدود ہو گیا ہے، جبکہ آئی آر جی سی کا اثر و رسوخ ملک میں بڑھتا جا رہا ہے۔ ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اعتدال پسند رہنما کے طور پر جانے جانے والے پیزشکیان مکمل طور پر سیاسی تعطل میں پھنس گئے ہیں، جبکہ ملک کے اہم کاموں میں آئی آر جی سی کا کردار بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی نے کئی اہم سرکاری فیصلوں اور تقرریوں کو روک دیا ہے، جس کی وجہ سے صدر مسعود پیزشکیان کے اختیارات تقریباً بے اثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ حال ہی میں ایرانی وزیر انٹیلی جنس کی تقرری کے معاملے میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملی۔ اس عہدے کے لیے پیزشکیان کی جانب سے تجویز کردہ ناموں کو خارج کر دیا گیا۔

ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ایک طرح کی ’ملٹری کونسل‘ بن گئی ہے، جس میں آئی آر جی سی کے سینئر افسران شامل ہیں اور تمام اہم فیصلے وہی لے رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے گرد ایک سخت حفاظتی گھیرا بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کی رپورٹس بھی ان تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔ صدر پیزشکیان نے بھی کئی بار ان سے ملاقات کی کوشش کی، لیکن ان کی ملاقات نہیں ہو سکی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...