
راہل گاندھی نے اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ قائدِ حزبِ اختلاف ہیں اور انہیں اپنی بات رکھنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدرِ جمہوریہ کے خطاب اور پیش کیے گئے بجٹ میں بین الاقوامی صورتحال، خاص طور پر چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، ایک مرکزی موضوع کے طور پر سامنے آئی ہے، ایسے میں ہندوستان اور چین کے درمیان پیش آئے واقعات پر بات کرنا پارلیمانی بحث کا فطری حصہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ قومی مفاد میں یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں، نہ کہ کسی ذاتی یا سیاسی فائدے کے لیے۔
حکمراں جماعت کے اراکین نے راہل گاندھی کے دعوؤں پر اعتراض کرتے ہوئے شور شرابہ جاری رکھا، جس کے باعث ایوان میں کارروائی کو بار بار روکنا پڑا۔ چیئر کی جانب سے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ غیر شائع شدہ مواد یا میگزین مضامین کا حوالہ ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکتا مگر راہل گاندھی اس مؤقف پر قائم رہے کہ اگر معاملہ قومی سلامتی کا ہے تو اس پر بحث سے گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔






