مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات (2 اپریل) کو مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کو پہلے ریاست سے اور پھر دہلی کے اقتدار سے باہر نکال پھینکنے کا عہد کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ منتخب حکومت ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن ریاست میں انتظامیہ چلا رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’یہ میرا وعدہ ہے۔ میں بی جے پی کو پہلے بنگال سے اور پھر دہلی کے اقتدار سے باہر نکال پھینکوں گی۔‘‘
ترنمول کانگریس کی سربراہ نے ویشنو نگر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بدھ کے روز مالدہ میں 7 عدالتی افسران کے گھیراؤ کے واقعے کی مذمت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اب مرکزی ایجنسیاں، خواہ وہ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) ہو یا پھر نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، سپریم کورٹ کے حکم پر کارروائی کریں گی۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’انتخاب سے قبل اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ اس واقعے سے پوری ریاست کی بدنامی ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امن کی حامی ہیں اور تمام برادریوں کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ ممتا نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے اشارے پر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریاست میں ترقیاتی کام ٹھپ ہو گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے اشارے پر بنگال کو برباد کر دیا ہے۔‘‘
ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’وزیراعظم) نریندر مودی اور (مرکزی وزیرِ داخلہ) امت شاہ ملک کو بربادی کی راہ پر لے جا رہے ہیں۔‘‘ وزیراعلیٰ نے طنز کستے ہوئے کہا کہ مودی نے ہر ایک کے بینک کھاتے میں 15 لاکھ روپے اور ہر سال 2 کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔
ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری اور ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سمیت تمام افسران کو تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے (کمیشن نے) سب کچھ بدل دیا لیکن مجھے نہیں بدل پائیں گے، کیونکہ مجھے اپنی عوام، اپنے بھائیوں اور بہنوں پر بھروسہ ہے۔‘‘




































