
گوٹکا گاؤں کے رہائش ی کپل پر جس وقت حملہ کیا گیا، اس وقت وہ دہلی ایئرپورٹ کی جانب گامزن تھے تاکہ بروقت ڈیوٹی جوائن کر سکیں۔ کپل کے مطابق، انہوں نے ٹول عملے سے اپنا شناختی کارڈ دکھاتے ہوئے گاڑی کو جلدی گزارنے کی درخواست کی، مگر عملے نے بدسلوکی کی اور حملہ کر دیا۔ حملے کے وقت کپل کے والد، چچا اور چچیرے بھائی بھی گاڑی میں موجود تھے، لیکن گاڑی کے لاک جام ہونے کی وجہ سے مدد نہیں کر سکے۔
کپل پنوار نے کہا کہ جسمانی زخم وقت کے ساتھ بھر جائیں گے لیکن ذہنی صدمہ زندگی بھر باقی رہے گا۔ انہوں نے کہا، ’’سرحد پر دشمن کا سامنا کرنے میں مجھے ہچکچاہٹ نہیں لیکن اپنے ملک میں اس قسم کا رویہ دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔‘‘






