
انہوں نے کہا کہ 900 سے زائد ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ذیابیطس، کینسر اور آئی سی یو جیسے علاج مزید مہنگے ہو جائیں گے۔ خاص طور پر دل کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والے اسٹینٹ کی قیمتوں میں اضافے کو انہوں نے تشویشناک قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے علاج عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہو جائے گا۔
کھڑگے نے ٹول ٹیکس اور اسپیڈ پوسٹ کی قیمتوں میں اضافے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں، ایسے میں مزید بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے اسے ’ہائی وے لوٹ‘ سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت کی نیت پر سوال اٹھایا۔






