مہاراشٹر میں زرعی بحران، ذہنی دباؤ کی گہری ہوتی لہر…جے دیپ ہاردیکر

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 14, 2026358 Views


وہ مثال دیتے ہیں، ’’ہم نے دھاراشیو، جو مہاراشٹر کے کم بارش والے علاقوں میں سے ایک ہے، وہاں بیواؤں کو یکجا کیا۔ سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون سے ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے تاکہ مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔‘‘

ہیگنا کا مقصد ایک زرعی-نفسیاتی-سماجی ماڈل تشکیل دینا ہے۔ فاؤنڈیشن کسانوں کے لیے ایسا ذہنی صحت معاونتی نظام وضع کرنا چاہتی ہے جو آسانی سے قابلِ رسائی اور قابلِ تکرار ہو۔ وہ ضلعی کلکٹر اور دیگر حکام سے رابطہ کر کے کسانوں کو سرکاری امداد دلانے میں مدد دیتے ہیں۔ بعض افسران تعاون بھی کرتے ہیں، مگر ان کے بقول یہ کافی نہیں۔

2023 سے موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہیگنا کو اندازہ ہو گیا تھا کہ آنے والا بحران صرف خشک سالی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگا۔ 2025 میں ایک مخیر عطیہ دہندہ کی مدد سے پونے میں ایک مرکزی نظام قائم کیا گیا جسے پورے مہاراشٹر تک توسیع دی جائے گی۔ اس کے باوجود موسمیاتی پالیسیوں میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو ابھی تک مرکزی اہمیت حاصل نہیں۔

ہیگنا کے الفاظ میں، ’’زمین شاید جلد بحال نہ ہو، مگر انسانوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور انہیں دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔‘‘

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...