اتل لوندھے پاٹل نے مزید کہا کہ ’’میرے پاس ایک چارٹ ہے، اگر آپ اسے دیکھیں گے تو پتہ چلے گا کہ زمین تک نہیں ملی۔ یعنی صاف ہے کہ بی جے پی حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔ اگر 5-4 سال میں لاکھوں کروڑوں کی سرمایہ کاری آ چکی ہے تو لاڈلی بہنا کو ہر ماہ 2100 روپے ملنا چاہیے، کسانوں کا قرض معاف ہونا چاہیے اور مہارشٹر حکومت کا قرض ختم ہو جانا چاہیے۔‘‘ ایسے میں سوال ہے کہ ’’کتنی کمپنیاں دیگر ممالک کی ہیں؟ کتنی کمپنیوں کے ایم ڈی، ڈائریکٹر مہاراشٹر یا باہر کے ہیں؟ جن کمپنیوں سے مفاہمت ناموں پر دستخط ہوئے، ان میں کتنی لسٹڈ ہیں؟ میگنیٹک مہاراشٹر کا کیا ہوا یا پھر کسی دباؤ کی وجہ سے مہاراشٹر کے حالات بہتر نہیں ہو رہے؟‘‘






