’’گیس ملتا ہے 400 روپے کلو، گھر کا کرایہ ہے 10 ہزار روپے ماہانہ اور کماتے ہیں 9 ہزار روپے۔ اب پیسہ کیا مودی کے گھر سے لا کر دیں گے؟‘‘ یہ بیان ایل پی جی بحران سے پیدا حالات میں پریشان ایک شخص کا ہے، جس کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ یہ شخص دہلی کے آنند وِہار ریلوے ٹرمینل پہنچا تھا تاکہ گاؤں جا سکے۔ ایک میڈیا ادارے نے جب اسے گاؤں جانے کی وجہ پوچھی تو غمگین ہوتے ہوئے اپنی حالت زار بیان کر دی۔ کانگریس نے ایسی کئی ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی ہیں، جو کہ مختلف میڈیا پر نشر ہوئی ہیں۔ ریلوے اسٹیشنوں پر بڑی تعداد میں مزدور طبقہ موجود دکھائی دے رہا ہے، جو رسوئی گیس کی قلت کے سبب بے بس ہو کر گاؤں جا رہا ہے۔
کانگریس کے ذریعہ شیئر کردہ ایک ویڈیو میں نوجوان شخص وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں سخت ناراض دکھائی دیتا ہے۔ وہ صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ ’’مودی جی ہیں، تو دقت ہے۔‘‘ جب رپورٹر اس سے سوال کرتا ہے کہ ’’ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘ تو جواب میں وہ کہتا ہے ’’ہم کو کہنا ہی پڑے گا۔ جب سے نوٹ بندی اور کورونا ہوا ہے، تب سے پریشانی ہی پریشانی ہے۔ سب سے اچھا تو یہی ہے کہ گاؤں جاؤ اور کوئی بھی بزنس کر لو، لیکن پردیس نہیں جانا چاہیے۔‘‘ جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ ’’مودی جی سے کیا دقت ہے؟‘‘ اس پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نوجوان نے کہا کہ ’’سلنڈر لے کر جگہ جگہ گھوم رہے ہیں، سب ٹھیک ہے تو سلنڈر بھرو نہ۔ 700-600 روپے کلو بھی نہیں مل رہا سلنڈر۔ 500 روپے دہاڑی کما کر کیا کر سکتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ’’کورونا میں کم از کم کھانے کا بہت زیادہ مسئلہ نہیں تھا، گیس کی قلت سے کھانا ملنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔‘‘
گیس اور تیل کے بحران نے کئی فیکٹریوں اور کاروباروں کو بند کر دیا ہے، جس سے بے روزگاری بھی بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی، مہاراشٹر، گجرات وغیرہ شہروں سے بڑی تعداد میں مزدور طبقہ اپنے اپنے گاؤں کی طرف لوٹ رہا ہے۔ مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ایک ویڈیو کانگریس نے شیئر کی ہے، جس میں کہا ہے کہ ’’ملک بھر سے لگاتار آ رہی تصویریں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ملک میں ایل پی جی کی قلت ہے۔ لوگ لائنوں میں لگے ہیں، ایل پی جی ایجنسی کی گاڑیوں کے پیچھے گھوم رہے ہیں، لڑ جھگڑ رہے ہیں، بیہوش ہو جا رہے ہیں، تھک ہار کر اپنے گاؤں لوٹ رہے ہیں۔ 4 لوگوں نے اپنی جان تک گنوا دی۔ لیکن مودی حکومت کا پورا سسٹم عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے، اور خود پی ایم مودی ریلیاں کرنے میں مست ہے۔ عوام کی تو ان کو پروا ہی نہیں ہے۔‘‘ اس ویڈیو میں لوگوں کی پریشانی کو دکھایا گیا ہے، جو کہ جھنجھوڑ دینے والا ہے۔
کانگریس نے میڈیا ادارہ ’آج تک‘ کی ایسی ویڈیو رپورٹ بھی شیئر کی ہے، جس میں فیکٹری کا مالک اپنی حالت زار بیان کر رہا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمت کے سبب فیکٹری بند کرنی پڑی اور سب کچھ ٹھپ پڑ گیا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’بحران کے وقت نریندر مودی نے چھوٹے اور متوسط صنعتوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ کس طرح ان کی دقتیں کم کی جائیں۔‘‘ کانگریس کا مزید کہنا ہے کہ ’’موجودہ بحران کا اثر اب پلاسٹک انڈسٹری پر نظر آنے لگا ہے۔ بیشتر فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور کام ٹھپ ہو چکا ہے۔ بڑے پیمانہ پر لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ایک ’ویزن لیس‘ وزیر اعظم کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔‘‘
کانگریس نے پریشان حال عوام کے کچھ بیانات بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیے ہیں، جو ان کی تکلیفوں اور پریشانیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان بیانات کو کانگریس نے عنوان دیا ہے ’’مودی جی ’من کی بات‘ سے فرصت مل گئی ہو تو ’جَن کی بات‘ (عوام کی بات) سن لیجیے۔‘‘ کچھ اہم بیانات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:
-
میں دن کے 400 روپے کماتا ہوں۔ گیس 500 روپے کلو مل رہی ہے۔ گیس خریدوں گا تو کھاؤں گا کیا؟
-
پہلے لکڑی 10 روپے کلو ملتی تھی، اب 50 روپے کلو مل رہی ہے۔ گیس اور لکڑی دونوں ہی مہنگی ہو گئی ہے، اب ہم کیا کریں گے؟
-
میرے بچوں نے 3 دنوں سے کھانا نہیں کھایا ہے۔
-
گیس نہیں مل رہی۔ روزی روٹی مر گئی ہے۔ قرض لے کر شہر میں تھوڑے رہیں گے۔
-
مزدوری کرنے آئے ہیں اور اگر 10 روپے نہیں بچا پائے تو کیا فائدہ۔ آدمی کیسے کھائے گا؟
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































