
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ غیر مساوات کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ دانستہ اختیار کی گئی پالیسیوں کی پیداوار ہے۔ آزادی کے بعد سے 1980 کی دہائی تک ہندوستان کسی حد تک آمدنی اور دولت کے فرق کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ وہ سیاسی اور معاشی ڈھانچہ تھا، جو آزادی کے بعد تشکیل دیا گیا اور جس کا جھکاؤ مجموعی طور پر سوشلسٹ تھا۔ اہم شعبوں کی قومی تحویل اور ترقی پسند ٹیکس نظام نے اس میں نمایاں کردار ادا کیا۔
1973 میں انکم ٹیکس کی بالائی شرح 97.5 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جس نے بالائی طبقے کے لیے بے تحاشا دولت جمع کرنا مشکل بنا دیا تھا۔ 1982 میں اسی طبقے کے پاس موجود دولت اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
تاہم 1980 کی دہائی کے بعد پالیسی ترجیحات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی، جو بالآخر وسیع معاشی آزاد کاری تک جا پہنچی۔ یہ ایک بڑا ساختی موڑ تھا۔ اس کے بعد نیو لبرل پالیسیوں کے نتیجے میں ریاستی کنٹرول کم ہوتا چلا گیا اور منڈی پر مبنی ترقی کے ماڈل نے غیر مساوات کو بڑھاوا دینا شروع کر دیا۔






