
لیکن اس راستے پر چلتے رہنا دراصل تباہی کو دعوت دینا ہے۔ نہ پرائیویٹ ایکویٹی کوئی حل ہے اور نہ وینچر کیپٹل۔ اس جال سے نکلنے کے لیے حکومت کو ترقی نامہ کے مقصد پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ بلاشبہ ہندوستان آج دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے، لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟ آکسفیم کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی دولت کا 75 فیصد سے زیادہ حصہ صرف 10 فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس ہے، جبکہ آبادی کے سب سے غریب نصف حصے کی دولت میں صرف ایک فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
ہمارے آس پاس ایسے ماڈل بھی ہیں جو کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ’اروند آئی کیئر سسٹم‘ ہے، جو ہندوستان میں آنکھوں کے علاج کا ایک بہترین نیٹ ورک ہے۔ یہ ادارہ اپنی خدمات کی تشہیر پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتا بلکہ اپنے وسائل سب سے محروم اور کمزور لوگوں تک پہنچانے میں صرف کرتا ہے۔ یہ گاندھی جی کی پسندیدہ کتاب ’انٹو دِس لاسٹ‘ سے متاثر ہے۔ یہ کتاب جان رسکن کے مضامین پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ معیشت کو بھی فنون اور سائنس کی طرح اخلاقی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایک الگ عزم کی ضرورت ہے جو بڑے مقصد اور انکساری کے ساتھ آئے اور جہاں مارکیٹنگ یا آج کے ہندوستان کی پہچان بن چکے طاقت کے مظاہرے کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔
(مضمون نگار جگدیش رتنانی صحافی ہیں اور ’ایس پی جے آئی ایم آر‘ میں فیکلٹی سے وابستہ ہیں۔ مآخذ: دی بلین پریس)






