
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ایف آر اے کے تحت یہ اختیار گرام سبھا کا ہے کہ وہ طے کرے کہ آیا جنگلاتی زمین کو غیر جنگلاتی استعمال کے لیے منتقل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ لیکن نہ تو مقامی برادریوں سے رائے لی گئی اور نہ ہی ان کے اعتراضات کو سنا گیا۔ ان کے مطابق تقریباً 3,500 ایکڑ بنیادی جنگلاتی زمین کے ڈائیورشن کے لیے وزارتِ ماحولیات، جنگلات و آبی تغیرات سے ابھی تک اسٹیج-6 منظوری نہیں ملی ہے، اس کے باوجود اڈانی گروپ وہاں درختوں کی کٹائی اور زمین خالی کرانے کے کام میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے کئی خاندان پہلے بھی ترقیاتی منصوبوں کے سبب بے گھر ہو چکے ہیں اور اب ایک بار پھر انہیں بے دخلی کے خطرے کا سامنا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف زمین چھین رہا ہے بلکہ مہوا، تند، دواؤں اور ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی لکڑی جیسے وسائل بھی ختم کر دے گا، جن پر مقامی قبائل کی روزی روٹی منحصر ہے۔ ان جنگلات کا مذہبی اور ثقافتی پہلو بھی ہے، اس لیے ان کا تباہ ہونا قبائلی شناخت پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، کمپنسٹری افاریسٹیشن اس نقصان کا حقیقی متبادل نہیں ہو سکتا۔





