’مودانی راج‘ میں بغیر منظوری کٹ رہے درخت، قبائلی حقوق پامال: جے رام رمیش

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 12, 2025381 Views


جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ایف آر اے کے تحت یہ اختیار گرام سبھا کا ہے کہ وہ طے کرے کہ آیا جنگلاتی زمین کو غیر جنگلاتی استعمال کے لیے منتقل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ لیکن نہ تو مقامی برادریوں سے رائے لی گئی اور نہ ہی ان کے اعتراضات کو سنا گیا۔ ان کے مطابق تقریباً 3,500 ایکڑ بنیادی جنگلاتی زمین کے ڈائیورشن کے لیے وزارتِ ماحولیات، جنگلات و آبی تغیرات سے ابھی تک اسٹیج-6 منظوری نہیں ملی ہے، اس کے باوجود اڈانی گروپ وہاں درختوں کی کٹائی اور زمین خالی کرانے کے کام میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے کئی خاندان پہلے بھی ترقیاتی منصوبوں کے سبب بے گھر ہو چکے ہیں اور اب ایک بار پھر انہیں بے دخلی کے خطرے کا سامنا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف زمین چھین رہا ہے بلکہ مہوا، تند، دواؤں اور ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی لکڑی جیسے وسائل بھی ختم کر دے گا، جن پر مقامی قبائل کی روزی روٹی منحصر ہے۔ ان جنگلات کا مذہبی اور ثقافتی پہلو بھی ہے، اس لیے ان کا تباہ ہونا قبائلی شناخت پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، کمپنسٹری افاریسٹیشن اس نقصان کا حقیقی متبادل نہیں ہو سکتا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...