جرمنی کی سابق چانسلر انجیلا مرکیل نے ایک اہم پروگرام کے دوران ہندوستان کے سابق وزیر اعظم آنجہانی منموہن سنگھ کی جانب سے شروع کیے گئے اقتصادی اصلاحات کی بھرپور انداز میں تعریف کی اور کہا کہ ان اصلاحات نے ہندوستان کو 30 برس کے معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دی۔ ہندوستان کی ترقی کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں معاشی ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔
دہلی میں 26 فروری کو منعقد پہلے ڈاکٹر منموہن سنگھ میموریل لیکچر کے دوران اپنے خطاب میں انجیلا مرکیل نے کہا کہ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کے باوجود ہندوستان نے گزشتہ چند برسوں میں 5 فیصد سے زیادہ کی شرح نمو درج کی ہے۔ منموہن سنگھ کے دورِ وزارت خزانہ کو یاد کرتے ہوئے مرکیل نے کہا کہ 1991 سے 1996 تک وزیر خزانہ کے طور پر، جب ہندوستان شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا تھا، منموہن سنگھ نے جرأت مندانہ اصلاحات کا آغاز کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منموہن سنگھ نے غیر ملکی زر مبادلہ کو آسان بنایا، لال فیتہ شاہی کا خاتمہ کیا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ہندوستانی منڈی کھول دی۔
منموہن سنگھ کے دور میں کی گئی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے جرمنی کی سابق چانسلر نے کہا کہ ’’ان اقدامات سے معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ انہی اصلاحات کی بدولت ہندوستان کے لیے تقریباً 30 سالہ معاشی ترقی کو دیکھنا ممکن ہو سکا۔‘‘ انجیلا مرکیل نے یہ بھی یاد کیا کہ کیوٹو پروٹوکول کے بعد جب ہندوستان نے بائنڈنگ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو قبول نہیں کیا تو انہوں نے اپنی مایوسی ظاہر کی تھی۔ اس پر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ ’’ہندوستانی پارلیمنٹ کبھی بھی بائنڈنگ کاربن ڈائی آکسائیڈ میں کمی کو قبول نہیں کرے گی۔‘‘ انہوں نے سابق وزیر اعظم کی متاثر کن زندگی کو بھی یاد کیا، ان کی سادہ شروعات سے لے کر ملک کی قیادت تک۔
اس کے ساتھ ہی مرکیل نے حالیہ دنوں میں ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی بھی تعریف کی اور یاد دلایا کہ اس معاہدے میں ان کا بھی کچھ کردار رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین دنیا کی دوسری سب سے بڑی عالمی معاشی طاقت ہے، جبکہ ہندوستان کی آبادی نوجوان ہے، جس سے اسے آبادیاتی فائدہ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات کے بعد ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ایف ٹی اے کے اعلان پر انہیں خوشی ہوئی۔ مرکی کہتی ہیں کہ ’’یورپی یونین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ سے مجھے بہت خوشی ہے، کیونکہ اس میں میرا بھی حصہ تھا۔ ہندوستان میں واقعی بہت صلاحیت ہے اور اس کا مستقبل بھی نہایت روشن ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































