
اتل پاٹل کے مطابق یہ زمین ہیراچند نیم چند دگمبر جین ہاسٹل اور مندر ٹرسٹ کی ملکیت تھی، جو جین سماج کے تعلیمی اور مذہبی مقاصد کے لیے وقف تھی۔ قانون کے مطابق ایسی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی، مگر اسے محض ایک ہی دن میں ’گوکھلے بلڈرز‘ کے نام منتقل کر دیا گیا، جس کے شریک مالک خود مرلیدھر موہول تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ زمین کی فروخت کے دن ہی دو بینکوں سے 70 کروڑ روپے کا قرض منظور کیا گیا، زمین رہن رکھی گئی اور سیل ڈیڈ رجسٹر کی گئی، یہ سب ایک ہی دن میں ممکن ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے میں سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال ہوا۔





