
ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں کہا کہ جیسے ہی انہیں اطلاع ملی کہ آئی پیک کے دفاتر میں چھاپہ ماری جاری ہے اور وہاں پارٹی کا حساس مواد موجود ہے، وہ خود موقع پر پہنچیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف پارٹی کی خفیہ دستاویزات کو محفوظ رکھنا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط استعمال سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے ای ڈی کی کارروائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی۔
اب اس معاملے میں تمام فریقین کے دلائل 18 مارچ کو ہونے والی اگلی سماعت میں سنے جائیں گے۔ اس مقدمے کو جانچ ایجنسیوں کے اختیارات اور ریاستی حکومت کے دائرہ کار کے حوالے سے اہم تصور کیا جا رہا ہے، جس پر قانونی اور سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔






