
کانگریس صدر کھڑگے نے اپنے خط میں کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی 24 مارچ کو حکومت کو تجویز دے چکی ہیں کہ اس حساس اور اہم موضوع پر بات چیت کے لیے آل پارٹی میٹنگ انتخابات کے بعد بلائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اس وقت انتخابی مہم میں مصروف ہیں، اس لیے سنجیدہ غور و فکر کے لیے مناسب ماحول انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت تقریباً ڈھائی سال قبل منظور کیے گئے آئینی ترمیمی قانون میں اب اچانک ترمیم کرنے کے لیے کیوں بے تاب دکھائی دے رہی ہے۔ کھڑگے کے مطابق اس معاملے پر جلدبازی نہ تو جمہوری اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی اس سے کسی مثبت نتیجے کی توقع کی جا سکتی ہے۔






