ملزم شبھم کھیرنار 6 جون تک عدالتی حراست میں

AhmadJunaidJ&K News urduMay 24, 2026358 Views


سی بی آئی کے مطابق شبھم کھیرنار ناسک کے نندگاؤں کا رہنے والا ہے۔ اس نے مدھیہ پردیش کی شری ستیا سائی یونیورسٹی سے بی اے ایم ایس (آیوروید) کی پڑھائی کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

نیٹ-یوجی 2026 پیپر لیک اور امتحان میں دھاندلی معاملے میں گرفتار ملزم شبھم کھیرنار کو ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اتوار (24 مئی) کو سی بی آئی نے دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں پیش کیا۔ ملزم کو اسپیشل جج روچی اگروال اسرانی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اسے 6 جون تک عدالتی حراست میں بھیج دیا۔

سی بی آئی کے مطابق شبھم کھیرنار مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے نندگاؤں کا رہنے والا ہے۔ اس نے مدھیہ پردیش کی شری ستیا سائی یونیورسٹی سے بی اے ایم ایس (آیوروید) کی پڑھائی کی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ شبھم نے پونے کے ایک مشتبہ شخص سے نیٹ کا پیپر 10 لاکھ روپے میں خریدا تھا اور بعد میں اسے ہریانہ کے ایک خریدار کو 15 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا۔

غورطلب ہے کہ سی بی آئی نے 13 مئی کو ناسک سے شبھم کھیرنار کو گرفتار کیا تھا۔ اس سے قبل 20 مئی کو راؤز ایونیو کورٹ نے اس کی 5 دن کی سی بی آئی کسٹڈی بڑھا دی تھی۔ نیٹ پیپر لیک معاملے میں گرفتار دیگر 5 ملزمان فی الحال 2 جون تک عدالتی حراست میں ہیں۔

سی بی آئی نے اب تک پیپر لیک اور امتحان میں دھاندلی کے الزام میں مجموعی طور پر 6 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں ناسک کے شبھمن کھیرنار، جے پور کے منگی لال بِوال، وکاس بوال اور دنیش بوال، گروگرام کے یش دیال اور مہاراشٹر کے اہلیہ نگر کے دھننجے لوکھنڈے شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی امتحان میں پیپر لیک اور بے ضابطگی کے الزامات سامنے آئے تھے، جس کے بعد معاملے نے طول پکڑ لیا۔ ایجنسیوں کی ابتدائی تحقیقات میں امتحانی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھے۔ اسی بنیاد پر امتحان کو منسوخ کرنے کا فیصلہ لیا اور اب نئے سرے سے منعقد کیا جائے گا۔

اس پورے معاملہ کی سنگینی دیکھتے ہوئے تحقیقات کی ذمہ داری سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو سونپ دی گئی ہے۔ سی بی آئی اب یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ پیپر لیک کے پیچھے کون سا نیٹورک یا سنڈیکیٹ کام کر رہا تھا اور اس میں کون کون سے لوگ شامل ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...