
کچھ میڈیا رپورٹس میں مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جب خواتین ملبہ میں پھنسی ہوئی تھیں، تو ریسکیو مہم چلانے والوں نے انھیں ہاتھ لگانے کی جگہ کپڑوں یا چادروں سے کھینچ کر باہر نکالا۔ کئی مرتبہ اس عمل میں تاخیر ہو گئی اور خواتین موقع پر ہی دم توڑ بیٹھیں۔ اتنا ہی نہیں، خواتین کے علاج میں بھی تفریق کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ کنار علاقہ میں متاثرین کی مدد کے لیے اسپتالوں میں مرد و خواتین مریضوں کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔ خاتون ڈاکٹروں کی کمی ہونے کے سبب کئی خواتین صحیح علاج سے محروم ہیں۔





