مغربی ایشیا میں جنگ اب بھی جاری ہے۔ اس کے باعث دنیا بھر میں تیل اور گیس کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہونے سے مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ ہندوستان کے کئی تیل اور گیس سے لدے جہاز بھی اس راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے لیے ایک راحت بھری خبر یہ ہے کہ 2 مزید ایل پی جی ٹینکر ’بی ڈبلیو-ای ایل ایم‘ اور ’بی ڈبلیو-ٹی وائی آر‘ خطرناک بن چکے آبنائے ہرمز کو کامیابی کے ساتھ پار کر چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ دونوں جہاز سایہ کی طرح ایک ساتھ چلتے ہوئے تقریباً 27 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے خلیج عمان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہندوستان کے 7 جہاز 2 دنوں سے یو اے ای کے قریب سمندر میں لنگر انداز تھے۔ 2 ایل پی جی ٹینکرس کی محفوظ روانگی کے بعد اب بقیہ 5 ہندوستانی جہاز اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ تمام جہاز خام تیل کے ٹینکرس ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پہلا جہاز ’بی ڈبلیو-ای ایل ایم‘ اس وقت خلیج عمان میں موجود ہے۔ یہ ایک ایل پی جی ٹینکر ہے، جس پر ہندوستانی پرچم لہرا رہا ہے۔ اس کی لمبائی 225.27 میٹر اور چوڑائی 36.62 میٹر ہے۔ اسی طرح دوسرا جہاز ’بی ڈبلیو-ٹی وائی آر‘ بھی خلیج عمان میں آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ بھی ایک ایل پی جی ٹینکر ہے، جس پر ہندوستانی پرچم لگا ہوا ہے۔ اس کی لمبائی 225 میٹر اور چوڑائی 36.6 میٹر ہے۔
مجموعی طور پر ہندوستانی پرچم والے 20 جہاز خلیجی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں ہندوستان وہاں پھنسے اپنے خالی جہازوں میں ایل پی جی لوڈ کر رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید ہندوستانی جہاز آبنائے ہرمز پار کر ملک کی طرف بڑھیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران نے کشیدہ حالات کے دوران 5 ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ دنوں ایک بیان دیا تھا، جس میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہے اور ہندوستان سمیت کچھ دوست ممالک کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ ایران نے ہندوستان کے علاوہ چین، روس، عراق اور پاکستان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































