ماہِ رمضان مشرقِ وسطیٰ میں ایک روحانی موسم کی طرح آتا ہے جس کے ساتھ عبادت، اجتماعیت، سخاوت اور ثقافتی روایات کی دلکش ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ عرب دنیا کے ممالک میں اگرچہ زبان، لباس اور طرزِ زندگی میں فرق پایا جاتا ہے، مگر رمضان کی آمد پر پورا خطہ ایک ہی جذبے میں بندھا دکھائی دیتا ہے، روزہ، نماز اور خیرات۔
سب سے نمایاں منظر سعودی عرب میں دکھائی دیتا ہے، جہاں رمضان کے دوران دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان عمرہ کی نیت سے پہنچتے ہیں۔ خاص طور پر مکہ اور مدینہ میں ایک منفرد روحانی کیفیت چھا جاتی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس آرزو کے ساتھ آتے ہیں کہ روزے کی حالت میں خانۂ کعبہ کا دیدار نصیب ہو، جبکہ کچھ نسبتاً کم مذہبی افراد بھی رمضان کی برکتیں سمیٹنے اور مقدس فضا میں روزہ رکھنے کی خواہش لے کر پہنچتے ہیں۔
مکہ اور مدینہ میں افطار کا اہتمام اپنی مثال آپ ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے صحنوں میں دسترخوان بچھتے ہیں جہاں کھجور، آبِ زمزم، جوس اور ہلکی غذائیں بلا امتیاز تقسیم کی جاتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خواہ ہجوم کتنا ہی کیوں نہ ہو، کوئی روزہ دار افطار سے محروم نہیں رہتا۔ مقامی باشندے، رضاکار اور ادارے دل کھول کر اس خدمت میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ سخاوت محض روایت نہیں بلکہ ایمان کا عملی اظہار محسوس ہوتی ہے۔
افطار کے بعد عبادات کا سلسلہ ایک نئے جوش کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ تراویح کی نماز میں قرآنِ کریم کی خوش الحان تلاوت، روح کو ایک خاص سکون عطا کرتی ہے۔ رات گئے تک مساجد آباد رہتی ہیں۔ آخری عشرہ میں بہت سے لوگ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں، جبکہ بازاروں میں بھی ایک تہوار جیسی رونق ہوتی ہے۔ تاہم مجموعی فضا میں سنجیدگی اور تقدس غالب رہتا ہے۔
خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت میں رمضان جدید طرزِ زندگی اور قدیم روایات کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ دن کے اوقات میں کام کے دورانیے مختصر کر دیے جاتے ہیں تاکہ لوگ عبادت اور آرام کے لیے وقت نکال سکیں۔ افطار کے لیے گھروں میں خصوصی پکوان تیار ہوتے ہیں، جبکہ ہوٹلوں میں شاندار بوفے سجتے ہیں۔ روایتی عربی کھانوں میں ہریس، قُبُوس، فَتُوش اور مختلف سوپ نمایاں ہوتے ہیں۔
ان ممالک میں خصوصی خیموں کا تصور بھی عام ہے جہاں خاندان اور دوست احباب افطار اور سحری کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ خیمے سماجی میل جول، کاروباری ملاقاتوں اور ثقافتی تقریبات کا مرکز بن جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ خیرات اور زکوٰۃ کی تقسیم بھی بڑے منظم انداز میں کی جاتی ہے۔
شام، اردن اور مصر جیسے ممالک میں رمضان کی راتیں ایک ثقافتی جشن کا منظر پیش کرتی ہیں۔ گلیوں میں روشنیوں کی جھلمل، روایتی لالٹینیں یعنی فانوس اور بچوں کی خوشیاں ایک الگ ہی دلکشی پیدا کرتی ہیں۔ مصر میں “مسحراتی” کی روایت آج بھی زندہ ہے، جہاں ایک شخص ڈھول کی تھاپ پر لوگوں کو سحری کے لیے جگاتا ہے۔ افطار کے بعد قہوہ خانوں میں چائے، قہوہ اور روایتی مٹھائیوں کا دور چلتا ہے۔
ماہِ رمضان میں کھانے صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ روایت، ذائقے اور اجتماعیت کی علامت بھی بن جاتے ہیں۔ افطار کی ابتدا عموماً کھجور اور پانی سے کی جاتی ہے، جس کے بعد ہلکی مگر لذیذ اشیاء دسترخوان کی زینت بنتی ہیں۔ برصغیر میں فروٹ چاٹ، دہی بڑے، چنا چاٹ، پکوڑے اور سموسے مقبول ہیں لیکن مشرقِ وسطیٰ میں ماہِ رمضان کے دوران دسترخوان پر روایتی اور ثقافتی ذائقوں کی خوبصورت جھلک نظر آتی ہے۔ افطار کا آغاز عموماً کھجور اور پانی یا قہوہ سے کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہلکی مگر غذائیت سے بھرپور ڈشز پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں ہریس (گندم اور گوشت سے تیار نرم پکوان) خاص مقام رکھتا ہے، جو اپنی سادگی اور طاقت بخش خصوصیات کے باعث بہت مقبول ہے۔
اسی طرح شوربے مختلف اقسام میں بنائے جاتے ہیں، جیسے دال، چکن یا سبزیوں کے سوپ، جو معدے کو افطار کے بعد نرمی سے غذا کے لیے تیار کرتے ہیں۔ سَمبوسہ اور فَتُوش (تازہ سبزیوں اور کرسپی روٹی کا سلاد) بھی عام ہیں۔ اہم کھانوں میں مَندی اور کَبسا نمایاں ہیں، جن میں خوشبودار چاول اور نرم گوشت شامل ہوتا ہے۔مٹھائیوں میں قُطایف رمضان کی پہچان سمجھی جاتی ہے ، یہ میٹھے بھرے پین کیکس ہوتے ہیں جنہیں کریم یا میوہ جات سے بھرا جاتا ہے۔ مشروبات میں قمرالدین (خوبانی کا مشروب) خاص پسند کیا جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں رمضان کا ایک اہم پہلو سخاوت اور ہمدردی ہے۔ اس ماہ میں لوگ خصوصی طور پر مخیر ہو جاتے ہیں۔ مساجد، سڑکوں اور عوامی مقامات پر افطار کی تقسیم عام ہے۔ ضرورت مندوں، مزدوروں اور مسافروں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ احساس کہ کوئی روزہ دار بھوکا نہ رہے، معاشرتی ذمہ داری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
خواتین گھریلو سطح پر عبادت اور مہمان نوازی دونوں کا توازن برقرار رکھتی ہیں۔ سحری میں سادہ مگر توانائی بخش غذا کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ افطار میں خاندان کی پسندیدہ ڈشز شامل کی جاتی ہیں۔ بچوں کو روزے کی ترغیب دی جاتی ہے اور انعامات یا چھوٹے تحفوں کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
مختصراً، مشرقِ وسطیٰ میں رمضان عبادت کے ساتھ ساتھ اجتماعیت، روایت اور روحانی تازگی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ مقدس شہروں کی پرنور فضا ہو یا جدید خلیجی ریاستوں کی منظم زندگی، ہر جگہ ایک مشترکہ جذبہ کارفرما ہوتا ہے، اللہ کی رضا، انسانیت کی خدمت اور دلوں کی پاکیزگی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































