
بعد میں اپنے قریبی دوست کندن لال سہگل کے بمبئی منتقل ہونے پر آرزوؔ لکھنوی بھی 1942 میں کلکتہ چھوڑ کر بمبئی آ گئے۔ یہاں نیشنل فلم اسٹوڈیو نے انہیں خوش آمدید کہا۔ روٹی، لالہ جی اور جوانی جیسی فلموں کے گیت بے حد مقبول ہوئے۔ اس مرحلے پر آرزوؔ مکالمہ نگاری میں بھی سرگرم ہو گئے۔
تقسیمِ ہندوستان کے بعد فلمی صنعت کا منظرنامہ بدل گیا۔ 1948ء میں بے قصور اور رات کی رانی آرزوؔ لکھنوی کی آخری فلمیں ثابت ہوئیں۔ عمر کے آخری دور میں وہ ایک مشاعرے کے سلسلے میں کراچی گئے، جہاں 17 اپریل 1951 کو ان کا انتقال ہو گیا۔ یوں اردو شاعری اور فلمی ادب کا ایک درخشاں باب اختتام پذیر ہوا، مگر ان کا تخلیقی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔
(ان پٹ: یو این آئی)






