
دانتوں کے بغیر مسکراہٹ ادھوری محسوس ہوتی ہے اور درست دانت چہرے کو پرکشش بناتے ہیں۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماری نہ صرف منہ میں مسائل پیدا کرتی ہیں بلکہ یہ دل کی بیماریوں اور خون کے بہاؤ پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ دانتوں کی صحت کا آغاز حمل کے ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے اور یہ زندگی بھر ترقی پذیر رہتی ہے۔
بچہ پیدا ہونے کے تقریباً 6-8 ماہ بعد پہلا دودھ کا دانت نکلتا ہے اور بالغ ہونے تک ایک شخص کے 32 مستقل دانت نکلتے ہیں، جن میں 8 انسائزر، 4 کینائن، 8 پریمولر اور 12 مولر (عقل دانت بھی شامل) ہوتے ہیں۔ دانت کی بیرونی سطح اینامیل ہوتی ہے، جو جسم کی سب سے مضبوط مادہ ہے۔ اس کے نیچے ڈینٹین اور اندر پلس ہوتا ہے، جس میں خون کی نالی اور اعصاب موجود ہوتے ہیں۔






