
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے ممبئی میں ایک فنکار رہنماؤں کی تصویروں اور پیغامات والے پوسٹر بنا تا ہوا، بدھ، 8 اپریل 2026۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ عارضی امن کے لیے آمادگی ظاہر کرنے سے پہلے 8 اپریل کو اسرائیل نے لبنان پر درجنوں فضائی حملے کیے جن میں 254 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ ان حملوں میں تقریباً 1,100 لوگ زخمی ہوئے اور شدید تباہی ہوئی۔ یہ سب اس وقت کیا گیا جب پاکستان کی پہل پر جنگ بندی کا اعلان ہو چکا تھا۔
اسرائیلی حملے کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر لبنان پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے ایران جنگ بندی سے پیچھے ہٹتا ہے تو یہ اس کی حماقت ہوگی، یعنی اسے اس کی قیمت چکانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ حالانکہ انہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ اسرائیل نے لبنان پر حملہ کرکے جنگ بندی سے پیدا ہونے والے امن کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ وینس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اور دیگر امریکی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ کہیں بھی کسی پر بھی حملہ کرنا ان کا حق ہے اور سب کو اسے برداشت کرنا ہوگا۔
امریکہ کے صدر نے اپنے مخصوص انداز میں ایران کو دھمکی دی ہے کہ امریکی بحریہ، فضائیہ اور فوج اپنی اپنی جگہوں پر تعینات رہیں گی جب تک ایران حقیقی معاہدے کی مکمل پابندی نہیں کرتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا کیونکہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے نہیں دے رہا۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اس میں لبنان پر حملہ روکنے کی بات بھی شامل تھی۔ یہ بات اس نے پاکستان کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہی جس میں جنگ بندی کی اطلاع دی گئی تھی۔ تین ہفتوں سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان نے ثالثی کی پہل کی اور تینوں متحارب ممالک کو ایک میز پر بیٹھنےکو آمادہ کیا۔
ہندوستان میں یہ بحث چل رہی ہے کہ ممکن ہے امریکہ نے ہی پاکستان کو ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہو۔ جو بھی ہو، جنگ میں تباہی ایران کی ہو رہی تھی لیکن امریکہ کسی نہ کسی طرح اس جنگ سے نکلنے کو بے تاب تھا، جس میں اسے اس کے پٹھو یا مالک اسرائیل نے گھسیٹ لیا تھا۔ امریکہ اور یورپ میں جنگ کی مخالفت بڑھتی جا رہی تھی۔ نیٹو کے دیگر رکن ممالک میں سے کوئی بھی، امریکہ کے بار بار کہنے اور دھمکانے کے باوجود، اس جنگ میں اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہوا۔ ٹرمپ کا رونا گانا اورچلانا بے کار گیا۔ بدحواسی میں ٹرمپ نے اپنے روایتی اتحادی ممالک کے سربراہان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی، مگر اس کا الٹا اثر ہوا۔
اس کے ساتھ امریکہ پر معاشی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ صرف تجارت کی زبان سمجھنے والا امریکہ اس عارضی خسارے کو برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اس لیے جنگ کا بند ہونا اس کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگر ہم یاد کریں تو بمباری کے درمیان اپنےمتکبرانہ انداز میں ٹرمپ نے بار بار جیت کے دعوے کیے۔ ایران کی سیاسی قیادت کے اجتماعی قتل کے بعد ٹرمپ نےڈینگ ماری کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی ہو گئی ہے، ایران پوری طرح ہل گیا ہے، اس کی فوجی صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔
لیکن ایران نے میزائل داغنا جاری رکھا۔ اس کے ڈرون حملوں کو روکنے میں امریکہ اور اسرائیل ناکام رہے ہیں۔ ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک کو نشانہ بنانا جاری رکھا جو امریکہ کے مفادات کے محافظ ہیں۔ اس نے صاف کیا کہ ان ممالک کی عوام کو نقصان پہنچانا مقصد نہیں ہے، لیکن چونکہ وہاں امریکی فوجی اڈے بھی ہیں، جنہیں ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اس لیے انہیں تباہ کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔
ایران نے اسرائیل کی ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے کو بھی خاک میں ملا دیا۔ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کی معمول کی زندگی کو تہس نہس کر دیا ہے۔ وہاں افراتفری کا ماحول ہے۔ لیکن اسرائیلی یہودی عوام عرب یا مسلمان دشمنی میں اس قدر اندھی ہو چکی ہے کہ خود کو تباہ کر لینے سے بھی گریز نہیں کر رہی۔ تقریباً 90 فیصد لوگ جنگ کے حق میں ہیں۔ اس طرح ایک پوری آبادی کا زوال ہوتا ہے۔
ایسی صورتحال میں امریکہ کے لیے جنگ بندی ناگزیر ہو گئی تھی۔ لیکن اسرائیل کی جنگی پیاس کی کوئی حدنہیں ہے، اس لیے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اس نے لبنان پر حملے کیے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو پر بدعنوانی اور دیگر معاملات میں مقدمے کی شنوائی ہونے والی ہے اور وہ اپنے ملک کی حفاظت کے لیے خود کو ناگزیر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں سچائی ہے کیونکہ عام دنوں میں غیر مقبول نیتن یاہو نے جنگوں کا سلسلہ چلا کر اپنے لیےمقبولیت حاصل کر لی ہے۔
امریکہ میں سب پوچھ رہے ہیں کہ ایران کے خلاف اس نئی جنگ کا مقصد کیا ہے؟ ایران امریکہ کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ ہے کیونکہ اسرائیل خود اس پورے خطے کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ وہ ایک وسیع تر اسرائیل کی تعمیر کے لیے ہر ملک کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور امریکہ اس کی اس سامراجی منصوبہ بندی میں اپنے لیے فائدہ تلاش کر رہا ہے۔
اس جنگ کا کوئی جواز نہیں تھا۔ لیکن یہی بات ان تمام پچھلی جنگوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے جو امریکہ نے اپنے حامی اسرائیل کے ساتھ یا اکیلے گزشتہ سو سال میں مختلف ممالک کے خلاف کی ہیں۔ تقریباً ہر جگہ سے اسے درمیان میں ہی واپس بھاگنا پڑا، لیکن ان ممالک کو تباہ کرنے کے بعد۔
ایران ٹھیک کہہ رہا ہے کہ سوال صرف جنگ بندی کا نہیں، جنگ کبھی ہو ہی نہ، اس کا ہے۔ اس کی ضمانت کون دے گا؟ دنیا میں ایسی کوئی اخلاقی قوت نہیں جو مستقل امن کے لیے پہل کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔
کبھی پوری دنیا میں اپنے اخلاقی آواز کی وجہ سے سنے جانے والے ہندوستان کی بولتی بندہے۔ اس کی حکومت نے دکھا دیا ہے کہ وہ اسی کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے جو طاقتور ہو، کیونکہ وہ طاقت کی پوجا کرتی ہے۔ اس جنگ کے ایک دن پہلے اسرائیل سے اپنے لیے ایک نقلی تعریفی تمغہ لے کر لوٹنے والےہندوستان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ اپنی اخلاقی کمزوری کو وہ یہ کہہ کر جائز ٹھہرا رہا ہے کہ وہ اس جھگڑے میں پڑنا نہیں چاہتا اور اسے اپنے معاشی مفادات سے مطلب ہونا چاہیے۔
یہی بات باقی دنیا بھی کہہ رہی ہے، اگر اسپین جیسے ایک آدھ استثنیٰ کو چھوڑ دیں۔ اب وہ جنگ بندی چاہتے ہیں کیونکہ جنگ کے جاری رہنے سے ان پر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خود کو مہذب کہنے والے ممالک کے لیے یہ شرم کی بات ہے کہ جنگ کے پہلے دن ہی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ماری گئی 153 اسکولی لڑکیوں کا خون انہیں مضطرب نہ کر سکا تھا، لیکن اب معاشی مفاد انہیں انسانیت کی یاد دلا رہا ہے۔
(اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔)





