ماہ مبارک رمضان کا روزہ بھی مذہب اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک ہے۔ روزہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘ (صحیح بخاری و مسلم) یہی وجہ ہے کہ سال کے 11 مہینوں میں عبادات اور قرآن کی تلاوت و تفسیر سے غفلت برتنے والے لوگ بھی ماہ رمضان میں اپنی تمام تر دنیاوی مصروفیات سے وقت نکال کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ اپنے شب و روز کے معمولات کچھ اس طرح سے مقرر کرتے ہیں تاکہ نماز اور روزہ اثرانداز نہ ہو۔ بے حد منصوبہ بندی کے باوجود بسا اوقات لوگوں کو ماہ رمضان میں بھی سفر کرنا پڑ جاتا ہے۔ ایسے میں ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ سفر کی حالت میں روزہ رکھیں یا قرآن میں دی گئی رخصت کو بنیاد بنا کر دوسرے ایام میں اس کو مکمل کریں۔ کئی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسافر کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے یا چھوڑنا؟ آئیے، قرآن و احادیث کی روشنی میں اس بات پر غور کرتے ہیں۔
سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کتنی مسافت پر سفر کا اطلاق ہو گا؟ جمہور فقہاء کے نزدیک وہ مسافت جس پر ’نماز قصر کرنے‘ اور ’روزہ چھوڑنے‘ کی رخصت نافذ ہوتی ہے، اس کی تحدید 80 سے 83 کلومیٹر کی گئی ہے۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کہ: عبد اللہ ابن عمر اور عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما چار ’بُرد‘ (یعنی تقریباً 48 میل یا 80 کلومیٹر) کی مسافت پر نماز قصر کرتے اور روزہ چھوڑ دیتے تھے۔ عہد نبوی کی مسافت کو آج کے تناظر میں دیکھیں تو 80 کلومیٹر یا اس سے زائد کا سفر کافی آسان لگتا ہے۔ دور جدید میں ہوائی جہاز، ٹرین (خاص طور سے اے سی کوچ) اور ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں طویل مسافت بھی آسان ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مسافر کے پاس اختیار ہے کہ وہ چاہے تو قرآن مجید کی دی ہوئی سفری رخصت پر عمل کرے (یعنی روزہ نہ رکھے) اور چاہے تو روزہ رکھ لے، دونوں صورتوں میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت 184 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: تم میں سے کوئی مریض ہو یا سفر کی حالت میں ہو تو دوسرے دنوں میں (روزوں کی) گنتی مکمل کر لے۔
مسافر کے لیے روزہ رکھنے کی افضلیت کا دار و مدار اس کی جسمانی حالت اور سہولت پر بھی ہے۔ بسا اوقات سفر آسان ہوتا ہے لیکن طویل مسافت کی وجہ سے روزہ رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے، تو اس کے لیے اللہ کی جانب سے دی گئی رخصت پر عمل کرنا ہی افضل ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری، حدیث نمبر 1946 میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہجوم دیکھا، اور ایک آدمی تھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا– یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا– یہ روزہ دار ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا– سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔‘‘
اسی طرح اگر سفر کے دوران مسافر کے لیے کیفیت یکساں ہے (یعنی نہ زیادہ مشقت اور نہ زیادہ آسانی) تو روزہ رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری، حدیث نمبر 1943 میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ– یا رسول اللہ! کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ اور وہ کثرت سے روزے رکھنے والے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا– اگر تم چاہو تو روزہ رکھو، اور اگر چاہو تو افطار کرو۔‘‘
آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ بہت سارے لوگ شرعی رخصت سے فائدہ نہ اٹھا کر بسا اوقات دینی معاملات میں خود پر سختی بھی کرتے ہیں اور دوسروں کی تضحیک بھی کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات اس کی اجازت نہیں دیتی، کیونکہ ہر انسان کی جسمانی قوت و صلاحیت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1116 میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں سخت گرمی کے دوران سفر پر نکلے۔ گرمی کی شدت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیتا تھا۔ ہم میں سے کوئی بھی روزہ دار نہ تھا، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔ پس روزہ رکھنے والا افطار کرنے والے پر عیب نہیں لگاتا تھا، اور نہ ہی افطار کرنے والا روزہ رکھنے والے پر عیب لگاتا تھا۔‘‘
مذکورہ بالا تفصیلات، قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دین اسلام میں بڑی وسعت ہے۔ مسافر کے لیے روزہ رکھنے یا چھوڑنے کا مسئلہ اس کے حالات و استطاعت اور سفری کیفیت سے جڑا ہوا ہے۔ آج کے جدید دور میں جب سفر کی صعوبتیں ٹیکنالوجی کی بدولت کم سے کم ہو چکی ہیں، تو اکثر علمائے کرام کا موقف یہی ہے کہ اگر کسی شخص کو صحت کا مسئلہ نہ ہو اور وہ آسانی سے اپنا معمول برقرار رکھ سکے، تو اسے رمضان کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لیے روزہ رکھ لینا چاہیے۔ تاہم ہمیں ان لوگوں پر تنقید کرنے سے مکمل گریز کرنا چاہیے جو شرعی رخصت کا استعمال کرتے ہوئے روزہ نہیں رکھتے، کیونکہ اللہ کے دیے ہوئے حق کو استعمال کرنا گناہ نہیں بلکہ عین اتباع سنت ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر سفر پُرامن اور آرام دہ ہے تو روزہ رکھنا افضل ہے، اور اگر سفر صبر آزما اور مشقت والا ہے تو روزہ چھوڑ دینا افضل ہے۔ مومن کا کمال یہی ہے کہ وہ اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے اللہ کی رضا تلاش کرے، خواہ وہ روزہ رکھ کر ہو یا اللہ کی دی ہوئی رخصت کو خوش دلی سے قبول کر کے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































