
ہندوستان میں مزدوروں کے حقوق، تحفظ اور روزگار کی ضمانت ہمیشہ سے ایک حساس اور بنیادی مسئلہ رہے ہیں۔ مگر حال ہی میں نافذ کیے گئے نئے لیبر کوڈ- صنعتی تعلقات کوڈ، سماجی تحفظ کوڈ اور پیشہ ورانہ تحفظ، صحت و کام کے حالات کا کوڈ حکومت کی واضح کارپوریٹ ترجیحات اور مزدور مخالف پالیسی کو بے نقاب کرتی ہیں۔ یہ قوانین بڑے صنعت کاروں اور سیاسی سرپرستی یافتہ طبقے کے مفادات کو مضبوط کرتے ہیں، جبکہ کروڑوں مزدوروں کی نوکری، تحفظ اور بنیادی حقوق کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
ان ضوابط کو پارلیمانی جانچ، اسٹینڈنگ کمیٹی کی تفصیلی غور و خوض اور بامعنی بحث کے بغیر منظور کیا گیا۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ اور بعض ارکانِ پارلیمان کی معطلی کی آڑ میں حکومت نے صوتی ووٹنگ کے ذریعے یہ قوانین نافذ کر دیے۔ یہ طرزِ عمل جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بی جے پی حکومت مزدور مفادات کو نظر انداز کر کے کارپوریٹ اور سیاسی ایجنڈے کو ترجیح دیتی ہے۔






