
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی نے طلبہ کے لیے جاری نوٹس میں تسلیم کیا ہے کہ گیس کی فراہمی میں کمی کے باعث میس کا نظام متاثر ہوا ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: ایک طرف مرکزی حکومت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ملک میں ایل پی جی (رسوئی گیس) کی کوئی قلت نہیں ہے، وہیں دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی کےآبائی ریاست گجرات سے آیا ایک نوٹس اس دعوے پر سوال کھڑا کرتا ہے۔
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی نے طلبہ کے لیے جاری نوٹس میں واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ گیس سپلائی کی کمی کے سبب میس کا نظام متاثر ہوا ہے۔
یکم اپریل 2026 کو جاری اس نوٹس میں یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ موجودہ ’جیو پولیٹکل صورتحال‘ کے باعث گیس کی سپلائی میں کمی آئی ہے۔ انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ باقاعدہ اور مناسب مقدار میں گیس سلنڈر فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس وقت تک متبادل انتظام کے ذریعے میس چلایا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے مینو میں کٹوتی کرنا پڑی ہے۔
یہ نوٹس اس لیے اہم ہے کیونکہ چند دن پہلے ہی پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے عوامی طور پر کہا تھا کہ ملک میں گیس کی کوئی قلت نہیں ہے اور سپلائی ’مکمل طور پر محفوظ اور قابو میں‘ ہے۔
حکومت نے یہاں تک کہا کہ ملک کے پاس کافی ذخیرہ موجود ہے اور کسی بھی قسم کی کمی کی بات ’گمراہ کن‘ ہے۔
تاہم، زمینی سطح پر صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق مغربی ایشیا میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، اور ہندوستان، جو بڑی مقدار میں ایل پی جی درآمد کرتا ہے، ایک سنگین گیس بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
فوٹو: cug.ac.in
کیوں اہم ہے یہ نوٹس؟
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی کا یہ نوٹس اس پورے بحران کو ایک نئے زاویے سے پیش کرتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی مرکزی ادارے نے سرکاری طور پر گیس کی کمی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی خدمات میں کمی کی بات کہی ہے۔
نوٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طلبہ کے نمائندوں سے بات چیت کے بعد مینو کم کیا گیا ہے تاکہ محدود وسائل میں میس کے نظام کو جاری رکھا جا سکے۔ یہ صورتحال حکومت کے سرکاری بیانات اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح تضاد کو ظاہر کرتے ہیں۔
دی وائر کو موصولہ معلومات کے مطابق، یونیورسٹی نے ’متبادل انتظام‘ کے طور پر لکڑی اور انڈکشن چولہوں کا استعمال شروع کیا ہے۔
یونیورسٹی کے ایک طالبعلم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’31 مارچ کو کسی بھی وقت کے کھانے میں روٹی نہیں ملی، جبکہ عام طور پر دوپہر اور رات کے کھانے میں روٹی ملتی تھی۔ رات کے کھانے میں سبزی بھی نہیں دی گئی، اس کی جگہ ٹماٹر کی چٹنی دی گئی۔‘
طالبعلم نے بتایا کہ میس کے عملے نے ایک دن پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ’جب تک سلنڈر نہیں آتا، تب تک مینج کرنا ہوگا۔‘
روٹی نہ ملنے کی بات کی تصدیق یونیورسٹی کے میس وارڈن اور اسسٹنٹ پروفیسر سوربھ کمار نے بھی کی، تاہم، انہوں نے کہا کہ اب صورتحال قابو میں ہے۔
دی وائر سے بات کرتے ہوئے سوربھ نے کہا، ’ایک دن کے لیے ہمارے یہاں ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی تھی، جس کی وجہ سے میس میں ایک وقت کی روٹی نہیں بن سکی۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’لیکن ہم نے فوراً گیس سلنڈر کا انتظام کر لیا۔‘
انہوں نے کہا، ’اس وقت ہمارے یہاں ایل پی جی سلنڈر کی سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے، اور جو نوٹس ہم نے جاری کیا تھا وہ موجودہ جیو پولیٹکل حالات کے پیش نظر ایک ایڈوائزری کے طور پر تھا۔‘
تاہم، نوٹس کو مکمل پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ’ایڈوائزری‘ نہیں ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے،’باقاعدہ اور مناسب مقدار میں گیس سلنڈر فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن تب تک متبادل انتظام کے ذریعے میس چلایا جا رہا ہے… اسی وجہ سے مینو میں کمی کی گئی ہے۔‘
یہاں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ابتدا میں سوربھ اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے تھے کہ یونیورسٹی میں گیس کا کوئی بحران ہے یا میس میں کمی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے گیس سپلائی میں رکاوٹ کو اس وقت تسلیم کیا جب صحافی نے یونیورسٹی کے نوٹس کا حوالہ دیا۔
’وزارت سے آیاتھاای میل ‘
سوربھ نے کہا، ’پچھلے ہفتے ہمیں وزارت کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوا تھا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ ہمارے پاس ایل پی جی سلنڈر وافر مقدار میں ہیں یا نہیں؟ اس وقت ہمارے پاس کوئی قلت نہیں تھی، ہم نے جواب دیا کہ سب ٹھیک ہے۔ لیکن بدقسمتی سے چند دن پہلے کچھ مسائل پیش آئے، جن کا حل اب نکال لیا گیا ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ ای میل کس وزارت کی طرف سے آیا تھا تو انہوں نے اس حوالے سے لا علمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ سلنڈر کے انتظام میں گیس ایجنسی اور مقامی انتظامیہ نے مدد کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اب صورتحال قابو میں ہے۔
طلبہ نے بھی بتایا کہ یکم اپریل کو انہیں میس میں مینو کے مطابق کھانا ملا، تاہم، وہ مستقبل میں ممکنہ کٹوتی کے حوالے سے فکرمند ہیں۔






