
قبائلی برادریوں کے سلسلے میں گروپ نے کہا کہ فہرست شدہ قبائل سے آگے بڑھ کر دیگر قبائلی طبقات کو بھی شامل کیا جائے تاکہ غیر درج قبائل کے دیرینہ مسائل کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ مذہب جیسے حساس موضوع پر محتاط انداز اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، خاص طور پر اس پس منظر میں جب شہریت اور ووٹر فہرستوں سے متعلق عوامی مباحث جاری ہیں۔
یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس کے متعدد ارکان اپنی سرکاری خدمات کے دوران ضلع، ریاست اور قومی سطح پر مردم شماری کے عمل میں شامل رہ چکے ہیں، گروپ نے اعتماد ظاہر کیا کہ رجسٹرار جنرل اس مشق کو ’’درستی، شفافیت اور رسائی‘‘ کے تین بنیادی مقاصد کے مطابق یقینی بنائیں گے۔ خط کا اختتام ’ستیہ میو جیتے‘ کے الفاظ پر ہوا اور اس کی تائید کئی نمایاں سابق عہدیداروں نے کی، جن میں سابق مرکزی داخلہ سکریٹری جی کے پلّئی، سابق خارجہ سکریٹری کے رگھوناتھ، سابق الیکشن کمشنر اشوک لاواسا اور سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ سمیت دیگر شامل ہیں۔






